نئی دہلی: جنتر منتر پر مسلم پرسنل لا بورڈ کے دھرنے کی اجازت آخری وقت میں منسوخ
کشمیری عوام کے سیاسی ، آئینی اور انسانی حقوق کے مطالبات کے حق میں چارٹر آف ڈیمانڈ پیش
نئی دہلی: بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مجوزہ پرامن احتجاجی دھرنے کی اجازت آخری وقت میں منسوخ کردی ۔ تاہم اس کے باوجودبھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کے سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق کے مطالبات کو اجاگر کیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بورڈ کے ترجمان اور تحریک کے کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس کانفرنس میں دہلی پولیس کی جانب سے دھرنے کی اجازت نہ دیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ پرامن احتجاج اور اظہارِ رائے شہریوں کے بنیادی آئینی حق ہے ۔بورڈ کے مطابق دستور بچائو، ملک بچائو تحریک کا مقصد بھارت کے محروم و مظلوم طبقات، اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے بنیادی حقوق، مذہبی و ثقافتی آزادی، مسلم پرسنل لا کے تحفظ، ماب لنچنگ، جان و مال کے تحفظ، مساجد و مدارس سے متعلق کارروائیوں اور دیگر شہری و دستوری امور پر عوامی توجہ مبذول کرانا ہے۔ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کے مطابق گزشتہ دس دنوں کے دوران دہلی پولیس نے دھرنے سے ایک روز قبل اجازت منسوخ کر دی ۔اس موقع پر جموں و کشمیر کے نمائندوں نے بھی اپنے سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق سے متعلق مطالبات پیش کیے اورمودی حکومت کے نام ایک چار نکاتی چارٹر پیش کیاگیا۔
چارٹرمیں کشمیری سیاسی نظربندوں کی رہائی اوروادی کشمیر کی جیلوں میں منتقلی کامطالبہ کیا گیا تاکہ سیاسی قیدیوں کے اہلخانہ ان سے بآسانی ملاقات کر سکیں اور انہیں قانونی مدد فراہم کرسکیں ۔وادی سے باہر جموں اور بھارت کی جیلوںمیں کشمیریوں کی منتقلی سے ان کے اہلخانہ کو طویل سفر اور دیگر مشکلات کاسامنا کرنا پڑتاہے ۔چارٹر میں جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی اور زمین و روزگار کے حقوق اور معاشی مفادات کے تحفظ کامطالبہ کیاگیاہے ۔ چارٹر میں جموں و کشمیر کے عوام کے لیے بامعنی آئینی ضمانتوں، آزادیِ اظہار اور پرامن جمہوری اظہارِ رائے کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا گیا، جو آئین اور قابلِ اطلاق قانون کے تابع ہو۔چارٹر میں کشمیری پنڈتوں کی اپنے آبائی وطن میں محفوظ، باعزت اور باوقار واپسی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔مقررین نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر مجوزہ دھرنے کی اجازت نہ ملنے کے باوجود دستور بچا، ملک بچا تحریک اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رہے گی۔







