مقبوضہ کشمیر: ضلع شوپیاں کے کئی علاقوں کو پانی کی قلت کا سامنا، لو گوں کو مشکلات کا سامنا
بنیاد ی ضروریات کی عدم دستیابی علاقے میں تعمیر و ترقی کے بھارتی دعوﺅں کا منہ چڑھا رہی ہے
سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع شوپیاں کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے رہائشیوں کو اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آلودہ پانی کے ذرائع پر انحصار کرنا پڑرہا ہے۔
ضلع کے علاقوں گاڈا محلہ، پیر محلہ اور بونا بازار کے رہائشیوں نے بتایا کہ انہیں گزشتہ کئی مہینوں سے پانی کی ناکافی فراہمی کا سامنا ہے اور پانی کی محدود فراہمی نے گھرانوں کے لیے روزمرہ کے استعمال کی ضروریات کو پورا کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
بشارت امین نامی ایک رہائشی نے بتایا کہ گاڈا محلہ میں گزشتہ چار سے پانچ ماہ سے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ ہمیں بہت کم پانی ملتا ہے جبکہ لائنوں میں پانی کی مقدار اس قدر کم ہوتی ہے کہ اسے کھینچنے کے لیے ہمیں واٹر پمپس کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پانی کا ایسا شدید بحران پہلے کبھی نہیں دیکھا ہے ،اس قلت کی وجہ سے گھرانوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ شوپیاں اپنے دریاو¿ں، ندی نالوں اور چشموں کے لیے جانا جاتا ہے اور ضلع بھر میں پانی کے کئی ذخائر موجود ہیں۔ تاہم، قدرتی آبی وسائل کی بہتات کے باوجود قابض انتظامیہ یہاں کے لوگوں کو پانی کی بہتر فراہمی کا قائم کرنے میں ناکام ہے۔
علاقے کے ایک رہائشی عاشق حسین نے بتایا کہ گھرانوں کو پانی صرف مختصر وقت کے لیے مل رہا ہے، جو ان کی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا جو پانی ملتا ہے یہ کپڑے دھونے اور دیگر گھریلو کام کاج نمٹانے کے لیے کافی نہیں ہے۔
رہائشیوںنے محکمہ پانی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کی طرف فوری توجہ دے اور متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کی باقاعدہ اور مناسب فراہمی کو یقینی بنائے۔
بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں تعمیر و ترقی کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہے تاہم بنیادی سہولیات اور ضروریات کی عدم دستیابی ان دعوﺅں کا منہ چڑھا رہی ہے۔






