سرینگر: ”پی ڈی پی“کا احتجاجی مظاہرہ، ریزرویشن پالیسی سے متعلق رپورٹ منظر عام پرلانے کا مطالبہ
سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی( پی ڈی پی) نے علاقے کی ریزرویشن پالیسی کو بہتر بنانے سے متعلق کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے اپنے مطالبے پر زور دینے کیلئے آج سری نگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرے کی قیادت پارٹی رہنما التجا مفتی نے کی ۔ احتجاج کرنے والوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ۔ انہوں نے نعرے لگائے اور رپورٹ کو فوری طور پر ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا۔ کابینہ کمیٹی موجودہ ریزرویشن کے نظام سے متعلق شکایات کا جائزہ لینے اور اسے معقول بنانے کے لیے اقدامات تجویز کرنے کی غرض سے تشکیل دی گئی تھی۔
التجا مفتی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں قائم مقبوضہ علاقے کی نیشنل کانفرنس حکومت پر رپورٹ کو ظاہر کرنے میں تاخیر کا الزام عائد کیا اور کہا کہ یہ معاملہ براہِ راست طلبہ اور ملازمت کے خواہشمند افراد کے مستقبل پر اثر انداز ہورہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سفارشات کو خفیہ رکھنے کے بجائے عوام کے سامنے لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتیں "بیچی” جا رہی ہیں اور بھرتی اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے حکومت کے طریقہ کار پر سنگین سوالات ہیں۔
ریزرویشن رپورٹ کی اشاعت کا یہ مطالبہ سرکاری بھرتیوں اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے کوٹے کے ڈھانچے پر جاری بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔ اوپن میرٹ کے امیدواروں کی جانب سے احتجاج اور نمائندگی کے بعداس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے عمر عبداللہ کی حکومت نے دسمبر 2024 میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کی سربراہی صحت اور تعلیم کی وزیر سکینہ یتو کر رہی تھیں ۔ بعد ازاں کمیٹی نے اپنی سفارشات وزراءکی کونسل کو پیش کیں۔








