جنگلات کی کٹائی اور غیر قانونی کان کنی سے پیر پنجال کا نازک ماحولیاتی نظام خطرات سے دوچار
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیر پنجال کے پہاڑی سلسلے کا نازک ماحولیاتی نظام درختوں کی غیر قانونی کٹائی، لکڑی کی اسمگلنگ، تجاوزات اور غیر قانونی کان کنی کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت کی سول اور فوجی انتظامیہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کی پشت پناہی کررہی ہے جس سے خطے کے جنگلات، آبی وسائل اور پہاڑی ڈھلوانوں کے استحکام کے حوالے سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ بڈگام میں دودھ گنگا سے پلوامہ، کپواڑہ اور بارہمولہ تک پھیلے ہوئے جنگلات پر لکڑی کے اسمگلروں کے ساتھ ساتھ نام نہاد ترقیاتی سرگرمیوں کا دباو¿ بڑھتا جا رہا ہے جن میں فوج کا بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہے۔
ایک رپورٹ میں کہاگیاہے کہمحکمہ جنگلات کے ریکارڈ کے مطابق مارچ 2026 تک 14,359 ہیکٹر سے زائد جنگلاتی اراضی پر قبضہ کیاگیاتھا جبکہ اپریل 2021 سے اکتوبر 2025 کے دوران 925.44 ہیکٹر اراضی سڑکوں، ریلوے، بھارتی فوج کے بنیادی ڈھانچے اور شہری ترقی کے لیے منتقل کی گئی۔ سب سے زیادہ دباﺅ ماحولیاتی طور پر نازک علاقوں بشمول پیر پنجال کے پہاڑی سلسلے اور کپواڑہ اور بارہمولہ کے جنگلات پرہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دودھ گنگا کے جنگلاتی علاقے فریس ناگ میں مارچ سے اگست کے دوران ایک ٹریکنگ سیزن میں 2,000 سے زائد کیل کے درخت کاٹے گئے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ اس تباہی کا بڑا حصہ لکڑی کے اسمگلروں کی جانب سے کیا گیا جو ان درختوں کو اونچی اونچی قیمتوں پر بیچتے ہیں۔
لکڑی کی اسمگلنگ کا پیمانہ حکومت کی طرف سےنفاذِ قانون کے اعداد و شمار سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ وسیع تر لاک ڈاو¿ن کے عرصے کے دوران حکام نے جنگلات سے متعلق جرائم کے سلسلے میں 130 افراد کو گرفتار کیا، 62 پولیس مقدمات درج کیے اور 14 گاڑیاں اور 27 گھوڑے ضبط کیے۔تاہم رپورٹ میں کہاگیا کہ یہ مسئلہ صرف انفرادی لکڑی کے اسمگلروں تک محدود نہیں۔ غیر قانونی کان کنی، تجاوزات، جنگلاتی اراضی کی منتقلی اور ترقیاتی منصوبے جن میں بھارتی کمپنیوں کو دیے گئے ٹھیکے اور کام بھی شامل ہیں، جنگلات اور نازک پہاڑی ماحولیاتی نظام پر مسلسل دباو¿ ڈال رہے ہیں۔ اراضی کی منتقلی کے حوالے سے مو¿ثر احتساب کا فقدان مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔جنگلاتی رقبے کی تباہی سے کھڑی ڈھلوانوں پر مٹی کے کٹاو¿ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور پانی کے بہاو¿ کو منظم کرنے کی جنگلات کی قدرتی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے۔
جنگلات کی تباہی کا تعلق سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی ہے، جس میں دریائے جہلم اور سرینگر جیسے زیریں علاقوں کی جانب اضافی پانی کا بہاو¿ بھی شامل ہے۔یہ بحران مقبوضہ جموں و کشمیر کی معیشت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ درختوں کی اندھا دھند کٹائی کشمیری بید کو خطرے میں ڈال رہی ہے، جو کرکٹ بیٹ کی صنعت کے لیے ایک اہم خام مال ہے۔ صنعت سے وابستہ افراد نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل غیر ذمہ دارانہ کٹائی آئندہ ایک دہائی کے دوران بےد کی شدید کمی کا باعث بن سکتی ہے۔پیر پنجال کے جنگلات زمین کے استعمال کے کل رقبے کا تقریباً 48 فیصد حصہ ہیں، اس لیے حیاتیاتی تنوع، موسمیاتی توازن، آبی تحفظ اور مقامی آبادی کے روزگار کے لیے ان کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔







