وزیر اعظم پاکستان نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال موثر انداز میں اجاگر کی، غلام محمد صفی
پاک ، ترکیہ وزرائے اعظم نے کشمیری عوام کے جذبات کی بھر پور ترجمانی کی، سید یوسف نسیم
اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے خطاب کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نے عالمی برادری کے سامنے مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو مو¿ثر انداز میں اجاگر کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق غلام محمد صفی نے اسلام آبادمیں جاری بیان میں کہا کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ کشمیری عوام آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب سے آزاد اور غیر جانب دار استصوابِ رائے کے اپنے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ وزیر اعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی قبضے، من مانے حراستی اقدامات، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد اور اجتماعی سزا سمیت کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے وزیراعظم کے اس مو¿قف کا بھی خیرمقدم کیا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ جنگ کے دہانے پر جانے سے روکنے کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور عادلانہ حل ناگزیر ہے۔
غلام محمد صفی نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ تنازعہ ہے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادیں اس کے حل کے لیے اہم بین الاقوامی حوالہ رکھتی ہیں۔ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے مو¿ثر کردار ادا کرے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری عوام عالمی فورموں پر اپنے جذبات کی بھر پور ترجمانی پر پاکستان کے مشکور ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کا راستہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
دریں اثنا حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے سینئر رہنما سید یوسف نسیم نے بھی اسلام آبادمیں جاری ایک بیان میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم کے خطاب کا خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے اعظم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیری عوام کے جذبات کی بھر پور ترجمانی کی۔ انہوںنے کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے جموں و کشمیر کے عوام سے جو وعدے کیے تھے، اب وقت آ گیا ہے کہ ان پر عملی طور پر عملدرآمد کیا جائے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور پیدائشی حقِ خود ارادیت دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر معمولی فوجی موجودگی اور کالے قوانین نے کشمیری عوام کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر رکھا ہے لہذاعالمی برادری کو چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔








