بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے اے آئی کے استعمال بھی اظہار تشویش
نئی دلی:
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026کے موقع پر جاری کی گئی ایک مشترکہ رپورٹ میں بھارت میں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رپورٹ "انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026:اے آئی گورننس ایٹ دی ایج آف ڈیموکریٹک بیکسلائیڈنگ "کے عوان سے یہ رپورٹ انٹرنیٹ فریڈم فائونڈیشن اور سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ نے جاری کی ہے ۔رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ بھارت میں اے آئی ٹولز کا استعمال اقلیت مخالف بیانیے کو پھیلانے، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور انتخابی عمل کو متاثر کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی کو سیاسی عناصر سماجی تقسیم کو بڑھانے اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔رپورٹ میں آسام پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ بھی دیا گیاہے جہاں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی حکومت کے آفیشل سوشل میڈیا اکائونٹ کے ذریعے اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو پوست کی گئی ہے ۔ویڈیو میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کو دو مسلمانوں کو گولی مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کلپ کا عنوان تھا "رحم بالکل نہیں”۔رپورٹ کے مصنفین نے ویڈیو کو "اشتعال انگیز قراردیا جو سماجی ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ بن سکی ہے۔انٹرنیٹ فریڈم فائونڈیشن کے ایک سینئر رکن نے کہاہے کہ جب سیاست دار ایک مخصوص مذہبی کمیونٹی کے خلاف تشدد کی منظر کشی کے لیے اے آئی کا استعمال کرتے ہیں، تو اس سے ایک خطرناک پیغام جاتا ہے،جس سے شہریوں میں خوف پیدا ہوتا ہے۔رپورٹ میں نئی دلی، چھتیس گڑھ اور کرناٹک میں بھی مثالوں کے خلاف اے آئی کے استعمال کی مثالوں کا ذکر کیا گیا ہے۔





