پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایئر لائنزکو بھاری نقصان کا سامنا

اسلام آباد: پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث ایئر انڈیا کی مغربی ممالک کے لیے پروازوں میں نہ صرف ایندھن کا خرچہ بڑھ گیا بلکہ دورانیہ بھی تقریبا 3 گھنٹے طویل ہوگیا جس کے بعد فضائی کمپنی بھارتی حکومت کو آمادہ کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ چینی فضائی حدود استعمال کی جاسکے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رائٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاہے کہ ایئر انڈیا بھارتی حکومت پر دبا ئوڈال رہی ہے کہ وہ چین کو قائل کرے کہ وہ سنکیانگ کی حساس عسکری فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے، تاکہ فضائی راستے کم ہوسکیں کیونکہ پاکستانی فضائی حدود پر بھارتی ایئرلائنز کی پروازوں پر پابندی کے باعث مالی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔یہ غیر معمولی درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پانچ سال کے تعطل کے بعد صرف چند ہفتے قبل بھارت اور چین کے درمیان براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع ہوئیںجو دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپ کے سبب بند کی گئی تھیں۔ایئر انڈیا اپنی ساکھ اور بین الاقوامی نیٹ ورک کی بحالی کی کوشش کر رہی ہے جس کو بوئنگ 787ڈریم لائنر کے گجرات میں تباہ ہونے کے بعد جس میں 260افراد ہلاک ہوئے، عارضی طور پر سیکیورٹی چیک کے لیے پروازیں کم کرنا پڑیں۔تاہم یہ کوشش اس وجہ سے متاثر ہو رہی ہے کہ اپریل کے آخر میں سفارتی کشیدگی بڑھنے کے بعد سے پاکستان نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہے۔دستاویز کے مطابق ایئر انڈیا کے ایندھن کے اخراجات میں 29فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے اور کچھ طویل پروازوں کے سفر کے دورانیے میں 3 گھنٹے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت ایئر انڈیا کی اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے کہ وہ چین سے سفارتی طور پر بات کرے تاکہ متبادل راستے کی اجازت دی جاسکے اور ہنگامی صورت میں سنکیانگ کے ہوٹن، کاشغر اور ارمچی ایئرپورٹس تک رسائی ممکن ہو، جس کا مقصد امریکہ، کینیڈا اور یورپ کے لیے پروازوں کا دورانیہ کم کرنا ہے۔دستاویز میں کہا گیا کہ ایئر انڈیا کا طویل فضائی نیٹ ورک شدید آپریشنل اور مالی دبا ئوکا شکار ہے، ہوٹن روٹ کی منظوری حاصل کرنا اسٹریٹیجک آپشن ثابت ہوگا۔ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئرلائنز کی ملکیت رکھنے والی ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے ائیرانڈیا کے منافع میں 455ملین ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔





