بھارت

بھارت : لنچنگ میں ملوث ہندو انتہاپسندوں کوسزا سنائے جانے کے بعد مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکیاں

نئی دہلی : بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک عدالتی فیصلے کے بعد گجرات کے شہر سورت سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو انتہاپسند نے بھارت بھر میں مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد اورقتل عام کی کھلی دھمکیاں دی ہیں جس کی ویڈیووائرل ہوئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ویڈیو میں وشال سنگھ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان کو گالیاں دیتے ہوئے دھمکی دے رہا ہے کہ اگر دس دنوں کے اندرہمارے 14 بھائیوںکو رہا نہ کیا گیا تو بڑے پیمانے پر خونریزی ہوگی۔ اس دھمکی پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید سامنے آئی ہے، صارفین نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ فرقہ وارانہ تشدد پر اکسانے اور عدلیہ کو براہ راست دھمکی دینے کی کوشش ہے۔کئی شہریوںنے ایک مسلمان خاتون جج کو دی جانے والی دھمکی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ جب ایک مسلمان جج کو ہندو غنڈے کھلے عام دھمکیاں دے رہے ہیں تو عام شہریوں کے لیے کیا امید باقی رہ جاتی ہے؟ ایک اور نے کہا کہ ایک ہندو جج کو گالی دے رہا ہے اور ملزمان کو رہا نہ کرنے پر نسل کشی کی دھمکیاں دے رہا ہے، پھر بھی یہ دعوے کیے جاتے ہیں کہ مسلمان بھارت میں محفوظ ہیں۔ناقدین نے اس معاملے پر حکومت کی خاموشی کی مذمت کی ہے۔ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی کھلی دھمکیوں کے باوجودنہ تو حکومت اور نہ ہی پولیس نے کوئی کارروائی کی ہے۔ویڈیو سے ایک بار پھر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے ماحول کو عکاسی ہوئی ہے اوریہ بات واضح ہوئی ہے کہ بھارت میں کس طرح مذہبی شناخت کو عدالتی فیصلوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔مدھیہ پردیش میںسیونی مالوا کی عدالت نے 2022 میں نذیر احمد کے لنچنگ کیس میں 14 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button