آپریشن سندور: پاکستان کے خلاف تیار کیاگیا منصوبہ بھارتی تاریخ کی شرمناک عسکری ہزیمت بن گیا
طالبان کو وحشی قوت قرار دینے والی مودی حکومت اب انہی کے قدموں میں جھک گئی ہے

اسلام آباد:آپریشن سندور کی تباہ کن ناکامی نے آر ایس ایس کے زیرِ سایہ مودی حکومت کو سیاسی، عسکری اور اخلاقی بحران میں دھکیل دیا ہے اور پاکستان کے خلاف طاقت کے مظاہرے کے لئے تیار کیاگیا منصوبہ بھارتی تاریخ کی سب سے شرمناک عسکری ہزیمت میں تبدیل ہو گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آپریشن سندور میںچھ بھارتی لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، درجنوں پائلٹ ہلاک یا زخمی ہوئے، فوجی حوصلے زمین بوس ہو گئے اور حکومت کو اندرونِ و بیرونِ ملک شدید تنقیدکا سامنا کرنا پڑا۔بھارت نے خود احتسابی کے بجائے خطرناک راستہ اختیار کیا اورطالبان سے خفیہ روابط بڑھائے اور پاکستان دشمن دہشت گرد تنظیموں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔
مودی حکومت کی یہ چال دراصل شکست خوردہ ذہنیت کا اظہار ہے جس نے بھارت کو وشوا گرو سے خود فریب ریاست میں تبدیل کردیا۔طالبان کے وزیرِ خارجہ کی نئی دہلی میں سرکاری میزبانی بھارت کی خارجہ پالیسی میں تاریخی تضاد کی علامت بن گئی۔ وہی حکومت جو طالبان کو خواتین دشمن اور وحشی قوت قرار دیتی تھی، اب انہی کے قدموں میں جھک چکی ہے۔بھارتی صحافی منو جین نے اس موقع پر لکھا کہ ہم آزادی کے وقت اتنے کمزور نہیںتھے۔ اگر آج پاکستان کے خلاف لڑنے کے لیے ہمیں طالبان کی ضرورت پڑ گئی ہے تو ہم کس عالمی قیادت کے دعوے دار ہیں؟ آپریشن سندور نے ہمیں اتنا غیر مستحکم کر دیا کہ اب سمجھ نہیں آ رہا کہ چین جائیں یا طالبان کے پاس۔منو جین نے مودی حکومت کی منافقت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ جو حکومت خواتین کے اختیار کی بات کرتی ہے وہ دراصل منوسمرتی جیسی دقیانوسی سوچ کی پروردہ ہے۔ طالبان سے قربت دراصل اسی ذہنیت کی عکاسی ہے جو خواتین کو تابع رکھنے کے سوا کچھ نہیں جانتی۔ طالبان کی پہلی پریس کانفرنس میں بھارتی خواتین صحافیوں کے داخلے پر پابندی نے پورے بھارت میں غصے کی لہر دوڑا دی۔ لوگوں نے سوال اٹھائے کیا یہ وہی مودی حکومت ہے جو میڈیا پر آہنی گرفت رکھتی ہے، اب خواتین کی توہین کے لیے طالبان کو پلیٹ فارم فراہم کررہی ہے؟ حزب اختلاف نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کے خوف سے قومی وقار بیچ ڈالا۔ٹی وی مباحثوں میں اسے نام نہاد وشوا گرو بھارت کے لئے شرمناک رات قراردیاگیاکیونکہ بھارت عسکری محاذ پر ہارچکا ہے اور سفارتی محاذ پر جھک گیاہے۔ نئی دہلی میں افغان سفارت خانے میں بھی تماشہ لگا جب طالبان نمائندوں نے افغانستان کا قومی پرچم اتار کر اپنا جھنڈا لگانے کی کوشش کی۔ سابق اشرف غنی حکومت کے حامی عملے نے سخت مزاحمت کی اور یوں بھارت غیر ملکی قوتوں کے تصادم کا اکھاڑا بن کر رہ گیا۔
نامور دفاعی تجزیہ کاروں نے آپریشن سندور کو ناکامیوں کی جڑ قرار دیا۔ ییل یونیورسٹی کے سشانت سنگھ نے جون 2025میں دی وائر کو بتایا کہ یہ مشن تیکنکی لحاظ سے محدود اور اسٹریٹجک لحاظ سے تباہ کن تھا۔ چند معمولی اہداف پر حملے کے لیے چھ طیارے قربان کرنا ملک نہیں، سیاست بچانے کی کوشش تھی۔پراوین ساہنی نے مئی 2025میں کرن تھاپر کو بتایا کہ عارضی دہشت گرد کیمپوں پر حملے سے کوئی فوجی مقصد حاصل نہیں ہوا، بلکہ بھارت کی کمزوریاں عالمی سطح پر بے نقاب ہو گئیں۔دونوں ماہرین نے واضح کیا کہ آپریشن سندور محض الیکشن اسٹنٹ تھا جس نے بھارت کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا۔
سائوتھ ایشیا انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹرڈاکٹر سبیر سنہا نے تجزیہ کرتے ہوئے کہاکہ طالبان سے بھارت کا اچانک رومانس دراصل پاکستان کو گھیرنے کی ناکام کوشش ہے۔انہوں نے بھارت کی نئی پالیسی کے چار خفیہ مقاصد بیان کیے۔جن میںپاکستان کے خلاف براہِ راست ناکامی کے بعد بالواسطہ دبائو،افغانستان میں چین کے اثر و رسوخ کو روکنا،لیتھیم، تانبا، سوناسمیت افغانستان کے قدرتی وسائل پر قبضہ اوربہار انتخابات سے قبل مسلم ووٹ حاصل کرنے کی سیاسی چال شامل ہے۔
جب اقوامِ متحدہ نے طالبان کے نظام کو صنفی امتیاز کی انتہا قرار دیا تو مودی حکومت انہی رہنمائوں کو سرخ قالین بچھا کر خوش آمدید کہہ رہی تھی۔ بھارتی دانشوروں نے اسے قومی اخلاقیات کا جنازہ قراردیا۔یہ وہی حکومت ہے جو خواتین، اقلیتوں، اور مذہبی آزادی کے نام پر سیاسی نعرے لگاتی ہے، مگر پسِ پردہ انہی شدت پسندوں سے ہاتھ ملا رہی ہے جنہیں کل تک دہشت گرد کہا جاتا تھا۔اس دوران پاکستان نے تحمل، توازن، اور سفارتی فراست کا مظاہرہ کیا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں اس بات کی علامت بنیں کہ دنیا نے پاکستان کو امن کا ذمہ دار فریق تسلیم کیا جبکہ بھارت کو خطے کے لئے خطرہ سمجھا جانے لگا۔
مختصراًتمام شواہد اور بیانات ایک ہی سمت اشارہ کرتے ہیں کہ آپریشن سندور نے بھارت کی فوجی کمزوری کو عیاں کر دیا۔طالبان سے تعلقات نے خارجہ پالیسی کا ابہام ، ناکامی اور غلطیاں ظاہر کر دیں۔ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی سرپرستی نے اس کا اخلاقی زوال ثابت کر دیا۔مودی حکومت نے خوف، انتقام اور سیاسی مصلحتوں میں الجھ کر بھارت کو وشوا گرو سے خود فریب اور بے اعتبار ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔خود بھارتی صحافی، محقق، اور تجزیہ کار اب مودی کی پالیسی کو ناکامیوں کا تسلسل قرار دیتے ہیں جسے حکمتِ عملی کا نام دے کر چھپایا جا رہا ہے۔جو کبھی آپریشن سندور تھا، وہ آج آپریشن سرنڈر بن چکا ہے جہاں بھارت نے نہ صرف عالمی وقاربلکہ اخلاقی حیثیت بھی کھو دی ہے۔







.jpg?resize=618%2C348&ssl=1)