مودی حکومت کا حساس تنصیبات تک رسائی دیکر امریکہ خوشنودی حاصل کرے کی کوشش
نئی دلی:
بھارت کی حالیہ فوجی اور سفارتی ناکامیوں کے بعد عالمی تنہائی کا شکار مودی حکومت نے امریکہ کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست اور بین الاقوامی سطح پر رسوائی اور گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے مودی حکومت نے ملک کے حساس ترین عسکری تنصیبات تک امریکہ کو رسائی دے دی ہے، جسے ماہرین مودی حکومت کا ملکی خودداری پر ایک بڑا سمجھوتہ قرار دے رہے ہیں۔ بھارتی میڈیاالمعروف گودی میڈیا اس وقت امریکی وفد کے حساس فوجی تنصیبات کے دورے کو ایک غیر معمولی تاریخی کامیابی کے طور پر پیش کررہاہے تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ روسی تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری اور امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے 50فیصد تک ٹیرف کے نفاذ کے بعد واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات میں پائی جانیوالی سردمہری ابھی تک ختم نہیں ہوئی ہے ۔ امریکی انتظامیہ کا رویہ اب بھی سرد ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق، بھارت میں منعقدہ حالیہ اے آئی سمٹ کی عبرتناک ناکامی نے مودی حکومت کو عالمی سطح پر شرمندگی سے دوچار کیا، جس سے توجہ ہٹانے کے لیے امریکی سفیر کے دورے کو ڈھال بنایا جا رہا ہے۔دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی اس وقت شدید دبائو کا شکار ہے۔ ایک طرف معرکہ حق کی شکست نے بھارتی عسکری طاقت کا بھرم توڑ دیا ہے جبکہ دوسری طرف امریکی خوشنودی حاصل کرنے کی یہ بے تاب کوششیں بھارتی سفارتکاری کے "زمیں بوس” ہونے کی گواہی دے رہی ہیں۔تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ بھارت محض ‘آپٹکس’اور میڈیا مینجمنٹ کے ذریعے اپنی کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی سفیر کی حساس عسکری تنصیبات تک رسائی دراصل امریکی آشیرباد حاصل کرنے کی ایک مایوس کن کوشش ہے تاکہ خطے میں بھارت کی گرتی ہوئی اہمیت کو مصنوعی سہارا دیا جا سکے۔






