بھارت بھر میں ریاستی پبلک سروس کمیشنز میں مسلمانوں کی نمائندگی انتہائی کم ہے : رپورٹ

نئی دہلی:ایک رپورٹ کے مطابق بھارت بھر میں ریاستی پبلک سروس کمیشنز (SPSCs)میں مسلمانوں کی نمائندگی حیرت انگیز طور پرانتہائی کم ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ2024کے وسط تک مجموعی طورپر474چیئرپرسنز میں سے صرف 22 مسلمان تھے جبکہ 967ارکان میں سے صرف 91مسلمان ارکان تھے۔ کم نمائندگی اس حقیقت سے مزید واضح ہوتی ہے کہ گجرات سمیت 13ریاستوں میں پبلک سروس کمیشنز میں کوئی مسلمان چیئرپرسن یا رکن نہیں ہے۔ چھتیس گڑھ، گوا، مہاراشٹر، ہریانہ اور ہماچل پردیش جیسی ریاستوں میں بھی پبلک سروس کمیشنزمیں کوئی مسلم نمائندگی نہیں ہے۔کچھ ریاستوں میں پبلک سروس کمیشنزمیں مسلمانوں کی قدرے بہتر نمائندگی ہے۔ مثال کے طور پرکیرالہ میں دو مسلمان چیئرپرسن اور 16 مسلم ارکان ہیںجبکہ مغربی بنگال میں دو مسلمان چیئرپرسن اور سات مسلم ارکان ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کچھ ریاستوں میں ماضی میں پبلک سروس کمیشنزمیں مسلمانوں کی نمائندگی تھی لیکن اس وقت نہیں ہے۔ مثال کے طور پرتامل ناڈو میں تین مسلمان چیئرپرسن تھے لیکن اس وقت کوئی نہیںہے جبکہ اڑیسہ میں ایک مسلمان رکن تھا اوراس وقت کوئی نہیں ہے۔ ریاستی پبلک سروس کمیشنزمیں مسلمانوں کی کم نمائندگی باعث تشویش ہے کیونکہ یہ کمیشن مختلف سرکاری عہدوں پر امیدواروں کی بھرتی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نمائندگی کی کمی سے موجودہ عدم مساوات برقراررہ سکتی ہے اور پبلک سیکٹر میں مسلمانوں کے لیے مواقع کو محدود کر سکتی ہے۔رپورٹ سے ریاستی پبلک سروس کمیشنزمیں زیادہ تنوع اور شمولیت کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے ، اس کے علاوہ مسلمانوں کی کم نمائندگی میں کردار ادا کرنے والے بنیادی عوامل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔






