مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ فروری میں 8کشمیریوں کو شہید کیا

کوارٹزانڈیا نے کشمیر کے بارے میں بھارتی بیانیہ بے نقاب کر دیا
سرینگریکم مارچ (کے ایم ایس) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران گزشتہ ماہ فروری میں 8 کشمیریوں کو شہید کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 3نوجوانوں کو ایک جعلی مقابلے میںشہید کیاگیا۔ گزشتہ ماہ بھارتی پولیس نے کم سے کم 107نوجوانوںکو گرفتار جبکہ پر امن مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال سے 10کشمیریوںکو زخمی کیا ۔ گزشتہ ماہ بھارتی فوجیوں نے تلاشی اور محاصرے کی 179کارروائیوں کے دوران تین خواتین کی بے حرمتی کی اور دو مکانوں کو تباہ کیا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماﺅں نے سرینگر سے جاری اپنے بیانات میں شہدائے زکورہ اور ٹینگ پورہ کو ان کی شہادت کی 32ویں برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کشمیریوں کے قتل عام کے یہ واقعات نسل کشی کی جاری مہم کا حصہ ہیں جن کی تحقیقات عالمی عدالت انصاف سے کرائی جانی چاہیے۔ بھارتی فوجیوں نے 1990میں آج ہی کے دن سرینگر کے علاقوں زکورہ اور ٹینگ پورہ میں پر امن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر کے پچاس سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو شہید کر دیا تھا۔
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا ہے کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ملازمتوں اور اراضی کے حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور نوکریوں کے دروازے غیر کشمیریوں کیلئے کھول دیے گئے ہیں ۔
ادھر کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے 2019 میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں دفعہ 370 کو منسوخ کرنے پر مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے اتر پردیش اور گجرات کے بیوروکریٹس کو کشمیر پر حکومت کرنے کے لیے لگایا گیا ہے۔
انگریزی اخبار” کوارٹز انڈیا “نے ایک تازہ تحریر میں جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکمران طبقے کے برسوں کے ”اٹوٹ انگ “کے بیانیے کو بے نقاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو تھے جو 1948میںاس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے۔ اخبار نے کہا کہ اقوام متحدہ نے جموں و کشمیر میں رائے شماری کی غرض سے بھارت اور پاکستان کے لئے اقوام متحدہ کا ایک کمیشن تشکیل دیا جس سے بھارت کے موقف کو دھچکا لگا اور تنازعے کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی توثیق ہوئی۔
امریکی جریدے” دی کرسچیئن سائنس مانیٹر“ نے غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیری صحافی فہد شاہ کی مکمل حمایت کا عزم کرتے ہوئے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کشمیر کی صورتحال صحافیوں کے لیے انتہائی جابرانہ ہوتی جارہی ہے۔ ”کشمیر ی صحافی فہد شاہ زیر حراست ہیں“ کے عنوان سے مضمون میں مزید کہا گیا کہ فہد شاہ کی گرفتاری کے بارے میں خبریں شائع کرنے کے خوف سے ظاہرہوتا ہے کہ مقامی طور پر کچھ لوگ واقف ہیں کہ علاقے میں کیا ہو رہا ہے۔ کرسچیئن سائنس مانیٹر نے لکھاکہ کشمیر والا کے ایڈیٹر کو سیاست اور سیکیورٹی کے بارے میں خبروںسمیت کشمیری زندگی کے بارے میں ایمانداری سے اور وسیع پیمانے پر رپورٹنگ جاری رکھنے پر نشانہ بنایا گیا۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d