مقبوضہ جموں و کشمیر

قابض انتظامیہ سے میر واعظ کی رہائی کا مطالبہ

سرینگر08اپریل (کے ایم ایس)
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے اپنے سربراہ میرواعظ عمر فاروق کی فوری اور غیر مشروط رہائی کادوبارہ مطالبہ کیا ہے جو اگست 2019 سے مسلسل گھر میں نظربند ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انجمن اوقاف نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیاکہ قابض انتظامیہ کی طرف سے مسلسل نظر بندی کے باعث ماہ رمضان کے پہلے جمعے کو بھی میر واعظ عمر فاروق تاریخی جامع مسجد سرینگر میں وعظ و تبلیغ کا فریضہ انجام دینے سے قاصر رہے۔بیان میں کہاگیا کہ رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کو بھی جامع مسجد کا منبر و محراب خاموش رہا جبکہ ماضی میں مسجد میرواعظ کی قیادت میں اللہ تعالی کے ذکر اور دعائوں سے گونجتی تھی کیونکہ میرواعظ کی گزشتہ تین سال سے غیر قانونی نظر بندی جاری ہے۔ اس موقع پر جامع مسجد کے امام حی مولانا احمد سعید نقشبندی نے کہا کہ رمضان میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ میر واعظ کی قیادت میں ہونے والی روح پرور مجلس وعظ و تبلیغ کو سننے کیلئے جامع مسجد میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ میرواعظ کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میر واعظ کی مسلسل نظر بندی سے لوگ شدید مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں۔ امام حی نے کہا کہ انجمن اوقاف اور عوام قابض حکام کے اس رویے پر سختی سے احتجاج کرتے ہیں اور اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ بیان میں مزیدکہا گیا کہ صدیوں پرانی روایت کے مطابق رمضان کے مقدس مہینے میں میرواعظ کشمیر وادی کی مختلف مساجد اور آستانوں میں خطبات دیتے تھے تاکہ لوگوں کو مذہبی اقدار اور عقائد سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں انسانیت ، ہمدردی ، رواداری اور راست بازی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے اور یہی چیز معاشرے میں اخلاقی قوت کے طور پر کام کرتی ہے ۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d