بھارت

شی جن پنگ کی مودی کے عشائیے میں عدم شرکت بھارت چین تعلقات کی پیچیدہ نوعیت کو ظاہرکرتی ہے

نئی دہلی : چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے برکس رہنماوں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے نے بھارت اور چین کے تعلقات کی پیچیدہ نوعیت کو عیاں کیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شی جن پنگ نئی دہلی پہنچے اور مودی سے بات چیت سے قبل برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی، تاہم اطلاعات کے مطابق وہ آرام کرنے کے لیے اپنے ہوٹل واپس چلے گئے۔ بیجنگ یا نئی دہلی میں سے کسی جانب سے اس کی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ان کی عدم شرکت اس لیے اہم ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور برکس کے کئی دیگر رہنما اس اجتماع میں شریک ہوئے۔یہ پیش رفت اسی روز سامنے آئی جب شی جن پنگ اور مودی نے دوطرفہ تعلقات میں بہتری اور طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازعے کے حل کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ان کی ملاقات سے متنازعہ سرحد پر کئی برس کی فوجی کشیدگی کے بعد تعلقات کو مستحکم کرنے کی ایک محتاط کوشش کا عندیہ ملا۔سیاسی تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ شی جن پنگ کی رسمی عشائیے میں عدم شرکت کو ایک الگ واقعے کے طورپر نہیں دیکھا جانا چاہیے اور نہ ہی اسے سفارتی توہین سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اسے برکس کے اندر جاری وسیع تر تزویراتی تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے، جہاں چین زیادہ تزویراتی اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ بھارت اپنی علاقائی اور عالمی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ اہم پیش رفت سرحدی تنازعے اور دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے شی جن پنگ کی مودی کے ساتھ بات چیت تھی نہ کہ ایک رسمی تقریب میں ان کی عدم شرکت۔ تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ عشائیے کے ظاہری تاثر اور شی-مودی ملاقات کے اصل موضوعات کے درمیان فرق دونوں طاقتوں کے باہمی تعلقات کی بڑھتی ہوئی مفاداتی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں سفارتی علامتوں کے بجائے تزویراتی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button