نئی دلی: شرجیل امام کی غیر قانونی قید کے چھ برس مکمل
دہلی:نئی دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) مخالف تحریک کی ایک اہم شخصیت شرجیل امام کو آج غیر قانونی حراست کے چھ برس مکمل ہو گئے ہیں ۔ انہیں 28 جنوری 2020 کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے “ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شرجیل امام کے خلاف ”’سی اے اے “ اور ”این آر سی“ کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران عوامی اجتماعات سے تقاریر کرنے پر مقدمات درج کیے گئے تھے جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر لوگوں کو اکسانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
ان کے خلاف دہلی، اتر پردیش، آسام، منی پور اور اروناچل پردیش میں ایف آئی آر درج کی گئیں۔ بعد میں انہیں جامعہ احتجاج کیس اور دہلی تشدد سازش کیس میں پھنسایا گیا۔ان کاتعلق بہار کے جہان آباد سے ہے۔ انہوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے ماڈرن ہسٹری اور فلسفہ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی، مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ حاصل کیاور اسسٹنٹ پروفیسر شپ کے اہل تھے۔
ان کے خلاف کل آٹھ ایف آئی آر درج کی گئیں۔ انہوںنے ان میں سے سات میں ضمانت حاصل کی ہے، تاہم وہ ابھی بھی دہلی فسادات کی سازش کیس میں جیل میں ہیں۔





