جنیوا: اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر اور شورش زدہ بھارتی ریاستوں تک رسائی دینے کا مطالبہ

جنیوا: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے سلسلے میں منعقد ایک تقریب کے مقررین نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاوہ منی پور اور بھارت کے دیگر شورش زدہ علاقوں تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے جہاں انسانی اور مذہبی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت میں ”مذہبی تعصب“ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد ورلڈ مسلم کانگریس نے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے تعاون سے کیا تھا، جس میں انسانی حقوق کے معروف نمائندوں، قانونی ماہرین اور دانشور شریک ہوئے۔
مقررین نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری جمہوری ملک ہونے کے دعویدار بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑی پیمانے پر تعصب جاری ہے اور ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک منظم اور مسلسل رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر سے منی پور سے تک مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم تعصب اور ان کے حقوق کے تباہ ہونے کا ایک حیران کن سلسلہ جاری ہے۔انہوںنے منی میں تقریبا 200 چرچوں کو نذر آتش کیا گیا جبکہ سیکیورٹی فورسز موجود تھیں، اسی طرح سے مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کے گھروں اور دیگر املاک کو بلڈوز کیا جا رہا ہے ، انہیں پیٹ پیٹ کر قتل کیا جا رہا ہے۔انہوںنے کہا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے ) کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کی ملک کو نکالنے کا راستہ ہموار کیا گیا۔ انہوں نے 2015 سے اب تک گائے کے تحفظ کے نام پر قتل کے ایک سو سے زائد واقعات رونما ہوئے ہیں تاہم کسی ملزم کو آج تک سزا نہیں دی گئی ہے۔مقررین نے مقبوضہ جموںکی ابتر صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اگست 2019 میں دفعہ 370 کی یکطرفہ منسوخی کے بعد 18 ماہ تک مسلسل انٹرنیٹ بند رکھاجو کسی بھی جمہوری ملک میں سب سے طویل ترین ڈیجیٹل کریک ڈاو¿ن کے طور پر شمار ہوتا ہے۔علاقے میں جامع مسجدسرینگر کو اکثر سیل کر کے کشمیری مسلمانوں کو یہاں نماز جمعہ اور عید کی نماز ادا نہیں کرنے دی جاتی ۔ بھارت نے علاقے کے ڈومیسائل قوانیں میں بھی تبدیلی لائی ہے جسکا واحد مقصد مقبوضہ علاقے میں بھارتی ہندﺅںکو آباد کرکر کے یہاں مسلمانوں کو اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے۔مقررین نے کہا کہ اب تک لاکھوں بھارتی ہندوﺅں کے مقبوضہ علاقے کے ڈومیسائل سرٹفیکٹس دیے گئے ہیں۔ پروگرام کی صدار ت ”کے آئی آئی آر“ کے چیئرمین اور جنیوا میں ورلڈ مسلم کانگریس کے مستقل نمائندے الطاف حسین وانی نے کی۔شرکت پروفیسر الفریڈ ڈی زایاس، رابرٹ فینٹینا، شمیم شال، میری اسکولی اور دیگرشامل تھے۔






