مقبوضہ جموں و کشمیر

جنیوا : کشمیری وفد اور یورپی کشمیری تارکین وطن کا اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر احتجاج

جموں وکشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ

جنیوا  : کشمیری وفد اور یورپ میں مقیم کشمیری تارکین وطن نے آج جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے فوری خاتمے اور مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مظاہرین نے کشمیر میں بھارت کی ”سامراجی“ موجودگی کے سنگین اثرات کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کراتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کی موثر بین الاقوامی نگرانی اور ذمہ داروں کے احتساب کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا۔انہوںنے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو ناقابل تنسیخ حق قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ان قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے موثر اقدامات کرے جن میں جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔
مظاہرین نے خطے میں بھارت کے ”سامراجی عزائم“ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی ہندو قوم پرستانہ پالیسی، جس میں زمینوں پر قبضہ، مذہبی معاملات میں مداخلت اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششیں شامل ہیں، کا مقصد علاقے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے سمیت کالے قوانین کے مسلسل استعمال کی بھی مذمت کی اور کہا کہ بھارتی حکام ان قوانین کو سول سوسائٹی کے کارکنوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور سیاسی رہنماوں کی آواز دبانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔مظاہرین نے مقبوضہ علاقے میں سیاسی اختلافِ رائے کو منظم انداز میں دبانے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماوں، کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو مسلسل ہراسانی، دھمکیوں اور طویل حراست کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پابندیوں پر مبنی قوانین اور جبری اقدامات کے استعمال سے ہر طرف خوف ودہشت کی فضا ہے ۔مظاہرین نے کہا کہ سیاسی رہنماوں کی طویل قید اختلافِ رائے کو دبانے اور سیاسی و انسانی حقوق میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
مظاہرین معروف مزاحمتی رہنما یاسین ملک اور دیگر نظر بندوں کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانونی اور عدالتی طریقہ کار کو کشمیری عوام کے سیاسی حقوق کی وکالت کرنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عدالتی عمل کے غلط استعمال کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری سیاسی قیدیوں کے مقدمات، حراستی حالات اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی کڑی نگرانی کرے۔مظاہرہ عالمی سطح پر احتساب، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے اور اقوام متحدہ کی جانب سے موثر اقدامات کے مطالبے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ۔
مظاہرے سے آزاد کشمیر کے سابق وزیر چوہدری پرویز اشرف، کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی ،کشمیر پیس فورم فرانس کے صدر ذاہد ہاشمی ، حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنما ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ، ڈاکٹر راجہ سجاد لطیف، شمیم شال، ڈاکٹر شگفتہ اشرف اور دیگر کشمیری نمائندوں نے خطاب کیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button