وادی کشمیر میں زائدالمیعاد اور اضافی قیمتوں پرادویات کی فروخت پر کوئی نظر رکھنے والا نہیں

medicine

سرینگر 04 اکتوبر (کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیر میں دوا فروشوں کی طرف سے زائدالمیعاد اور زائد قیمتوں پرادویات کی فروخت پر کوئی نظر رکھنے والا نہیں ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر کے ایک صارف محمد عارف نے بتایا کہ ایک دوا فروش نے بلڈ شوگر کی جانچ کے لیے استعمال ہونے والی زائد المیعاد ہیلتھ ڈیوائس(گلوکومیٹر سٹرپس) کے پیک پر سٹیکر چسپاں کرکے اس کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ میں چھیڑ چھاڑ کی ہے۔صارف نے بتایا کہ پیک کی اصل میعاد نومبر 2021 تھی لیکن دوا فروش نے اس پر اسٹیکر چسپاں کیا جس کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ مارچ 2022 ہے۔یہ ایک بڑا اسکینڈل ہے جس کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔محمد عارف نے کہاکہ ڈرگس کنٹرول کا شعبہ دوا فروشوں کو ریگولیٹ کرنے کا پابند ہے جبکہ لیگل میٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ دوا فروشوں کی طرف سے فروخت ہونے والی جراحی کی اشیاءاور صحت کے دیگر آلات کو چیک کرتاہے ۔ایل ایم ڈی کے ایک عہدیدار نے بتایاہم نے دوافروشوں کے خلاف ہیلتھ ڈیوائسز یا جراحی کی اشیاء کے پرائس ٹیگز یا ایکسپائری ڈیٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر درجنوں مقدمات درج کیے ہیں۔ کچھ معاملات میں دکان کے مالک پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں کا کنٹرول براہ راست نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی (این پی پی اے) وزارت کمیکلز اینڈفرٹیلائزرز حکومت ہند کرتی ہے۔
دریں اثناءسرینگر کے ایک صارف ارشد رسول نے شکایت کی کہ میں نے جموں میںDenzo-12 کی 10 گولیوں کی ایک سٹرپ195 روپے میں خریدی لیکن وہی سٹرپ مجھے وادی کشمیر میں 350 روپے میںدی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: