راہل گاندھی کی مودی حکومت پر کڑی تنقید
بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ کسانوں کے لیے 'ڈیتھ وارنٹ'ہے
نئی دلی:
بھارت میں کانگریس پارٹی کے رہنماء اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مودی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کو کسانوں کے لیے ڈیتھ وارنٹ قرار دیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راہل گاندھی نے ریاست کیرالہ کے شہر کنور میں کسانوں کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت کی پالیسیاں زراعت اور کسانوں کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ کسی اور بھارتی وزیر اعظم نے ایسا معاہدہ کرنے کی ہمت نہیں کی۔ اس معاہدے پر چار ماہ کی تاخیر کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر بھارتی قیادت کو دھمکیاں دینے کے بعد دستخط کیے ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت کسانوں کے مفادات کو اپنی حفاظت کے لیے قربان کر رہے ہیں۔راہول گاندھی نے ملک کے دور حکومت میں پارلیمانی جمہوریت کے بارے میں شدید تحفظات کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپوزیشن لیڈر کوموشن آف تھینکس پر بحث کے دوران جواب دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی تقریر کو روکا گیا کیونکہ مودی حکومت کو خدشہ تھا کہ وہ "ایپسٹین سیکرٹ فائلز” کوافشاکردیں گے ۔راہل گاندھی نے کہاکہ ارب پتی تاجر گوتم اڈانی صرف ایک صنعتکار نہیں ہیں، بلکہ ہندوتوابی جے پی اور وزیر اعظم مودی دونوں کے لیے فنڈنگ کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔







