مقبوضہ کشمیر پر اپنے غیرقانونی تسلط کو طول دینے کیلئے بھارتی فوج کو مزید اراضی کی الاٹمنٹ کی تیاریاں

سرینگر:بھارت نے اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ متنازعہ علاقے جموں و کشمیر پر اپنے فوجی تسلط کو مزید مضبوط کرنے کیلئے سرینگر کے ٹیٹو گرائونڈ کی139 ایکڑ اراضی کے بدلے فوج کو متبادل اراضی کی الاٹمنٹ کیلئے ایک جوائنٹ بورڈ آف آفیسرز تشکیل دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 8رکنی بورڈ کی سربراہی ہیڈکوارٹر 31 سب ایریا کا ایک کرنل کرے گا جبکہ اسٹیشن کمانڈر ہفت چنار اور سرینگر، اسلام آباد اور بارہمولہ کے سول افسران بورڈ کے رکن ہوں گے ۔ سرینگر اور بارہمولہ کے ڈیفنس اسٹیٹس کے عہدے داروں کو بھی بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔بورڈ کو مقبوضہ علاقے کی نام نہاد انتظامیہ کی طرف سے بھارتی فوج اور وزارت داخلہ کی طرف سے دی گئی زمین کا جائزہ لینے، پہلے ٹرانسفر کی گئی اراضی کی قیمت کا تعین کرنے اور فوج کو اب درکار 139.04ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات کے ذریعے بھارت جموں و کشمیر کے بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے پر اپنے فوجی تسلط کو طول دینے کی مذموم کوشش کر رہاہے ۔ بڑے پیمانے پر زرعی ،جنگلات اور شہری اراضی پر بھارتی فوج کا قبضہ مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور پورے جموں وکشمیرکو فوجی چھائونی میں تبدیل کرنے کی بھارتی مذموم کوششوں کا حصہ ہے ۔






