بھارت

بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ، مقبوضہ کشمیرمیں ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے ،امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف

 

واشنگٹن21مارچ(کے ایم ایس)
عالمی انسانی حقوق کے بارے میں امریکہ کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ،اقلیتوں کے خلاف مذہبی بنیادوں پر پرتشدد کارروائیاں اور غیر قانونی طورپر زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے ۔
امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری عالمی انسانی حقوق کے بارے میں سالانہ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ بھارت میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیاں جاری ہیں اورمذہبی اقلیتوں، اختلاف رائے رکھنے والوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں گزشتہ سال بھی ماورائے عدالت قتل عام کا سلسلہ جاری رہا ہے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ حالیہ برسوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بی بے پی کی حکومت پر ایڈوکیسی گروپوں نے بھارت میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی یہ رپورٹ وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے اس بیان کے ایک سال بعد جاری کی گئی ہے جس میں انہوں نے کہاتھا کہ امریکہ بھارت میں بعض حکومتی، پولیس اور جیل حکام کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ سال 2022 میں بھارتی فوج کی مقبوضہ جموں وکشمیر میں پر تشددکارروائیاں جاری رہیں ۔ بھارتی فورسزکے ہاتھوں مقبوضہ کشمیرمیں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں اور کئی واقعات میں بھارتی پولیس نے لواحقین کو انکے پیاروں کی لاشیں دینے سے بھی انکار کیا۔امریکی انتظامیہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت میں آزادی صحافت پر قدغن اور اقلیتوں کے خلاف ظلم وتشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے۔رپورٹ کے مطابق صحافیوں اور سیاسی مخالفین کی جبری گرفتاریوں کاسلسلہ جاری رہا ۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بھی پولیس اور جیل حکام کی طرف سے سیاسی نظربندوں یا نظربندافرادپرغیر انسانی اور توہین آمیز سلوک اور صحافیوں کی بلاجواز گرفتاریاں یا ان پر مقدمات کے انداراج کا سلسلہ جاری رہا ۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی پالیسیاں اور اقدامات مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ مودی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی ہندو قوم پرست حکمران جماعت نے 2014میں اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت میں مذہبی پولرائزیشن کو فروغ دیا ہے۔رپورٹ میں اگست 2019میں مودی حکومت کی طرف سے مسلم اکثریتی مقبوضہ جموںو کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کا حوالہ بھی دیاگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے گزشتہ سال بھارت کے بعض حصوں میں کئی دکانوں اور جائیدادوں کو بھی منہدم کیا، جن میں سے بیشتر مسلمانوں کی ملکیت تھیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مسماری کی مہم ہندوستان کے 20کروڑ مسلمانوں کو ڈرانے کی ایک کوشش ہے کیونکہ مودی حکومت نے اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھاکہ وہ قانون کو نافذ کر رہی ہے۔ امریکی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق مودی حکومت مبینہ طور پر مسلمانوں کے گھروں اور ذرائع معاش کو تباہ کرنے کے لیے بلڈوزر کا استعمال کر رہی ہے۔2014میں مودی کے برسر اقتدارآنے کے بعد سے، بھارت ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 140ویں درجے سے 150ویں نمبر پر آ گیا ہے، جو بھارت کی اب تک کی سب سے کم ترین پوزیشن ہے۔ انٹرنیٹ ایڈوکیسی واچ ڈاگ ایکسیس نائو کا کہنا ہے کہ بھارت 2022سمیت مسلسل پانچ سال سے دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ بند کرنے والے ممالک کی کی فہرست میں پہلے نمبر پر موجود ہے ۔امریکی رپورٹ میںمزید کہا گیا ہے کہ "سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مودی حکومت نے انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو حراست میں لینے کے لیے ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یواے پی اے کا غلط استعمال بھی کیا۔
ماہرین اس رپورٹ کو ایک اہم پیش رفت قراردای ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اقتصادی روابط اور حریف چین کے علاقائی اور عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے کے دوران امریکہ کے لیے بھارت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی وجہ سے امریکہ شاذ و نادر ہی بھارت پر تنقید کرتا ہے۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d