مغربی ایشیا کشیدگی: بھارت میں 25لاکھ افرادخط غربت سے نیچے جانے کے خطرے سے دوچار، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ:اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے اثرات کے باعث بھارت میں تقریبا 25 لاکھ افرادخط غربت کے نیچے جا سکتے ہیں، جبکہ انسانی ترقی اور معاشی استحکام کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عسکری کشیدگی ایندھن، مال برداری اور صنعتی لاگت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، جس سے لوگوں کی قوت خرید کمزور اور غذائی عدم تحفظ میں اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر تقریبا 88لاکھ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں جنوبی ایشیا سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ بھارت اس صورتحال سے ببری طرح متاثرہو گا اور خط غربت تلے جانے والے افراد کی تعداد 4لاکھ سے 25لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت اپنی توانائی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے، خصوصا خام تیل اور ایل پی جی کا بڑا حصہ مغربی ایشیا سے حاصل کیا جاتا ہے، جس کے باعث آبنائے ہرمز میں کسی بھی رکاوٹ سے شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں واضح کیاگیاہے کہ بھارت مغربی ایشیا سے 45فیصد کھاد درآمد کرتا ہے، جبکہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کوئلے پر انحصار بھی بڑھ رہا ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ شپنگ رکاوٹیں، بڑھتے ہوئے فریٹ چارجز اور انشورنس لاگت سپلائی چین کو متاثر کر رہے ہیں، جس سے جواہرات، ٹیکسٹائل، چائے اور باسمتی چاول جیسے برآمدی شعبے متاثر ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک میں مقیم 90 لاکھ سے زائد بھارتیوں کی ترسیلات زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں۔








