سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی بڑی کامیابی
ثالثی عدالت نے عمل درآمد کیلئے بھارت پر قانونی دبائو بڑھا دیا

اسلام آباد:بھارت کی طرف سے پہلگام فالس آپریشن کے بعد یکطرفہ طورپر معطل کئے گئے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کو ایک بڑی سفارتی اور قانونی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ثالثی عدالت کی طرف سے جاری کئے گئے پروسیجرل آرڈر نمبر 19میں پاکستان کے موقف کی واضح توثیق کی گئی ہے ۔ ثالثی عدالت نے نہ صرف اپنی قانونی اتھارٹی برقرار رکھی ہے بلکہ پاکستان کے پیش کردہ شواہد کو آگے بڑھاتے ہوئے تعمیل کی ذمہ داری براہِ راست طوپربھارت پر عائد کر دی ہے۔ ثالثی عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ثالثی کا عمل مکمل طور پر فعال ہے اور کسی ایک فریق کی عدم شرکت کارروائی کو روک نہیں سکتی۔عدالت نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ سیاسی بیانات یا یکطرفہ اعلانات معاہدے کے طریقہ کار کو معطل نہیں کر سکتے۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ تعمیل کا تعین زمینی اور عملی حقائق کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ مبالغہ آمیز یا مفروضاتی منصوبہ بندی پر۔عدالت نے کارروائی میں بھارت کی جانب سے مقررہ ٹائم لائنز پر عدم جواب دہی کو باضابطہ طور پر ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔اہم پیشرفت کے طور پر عدالت نے ہدایت دی ہے کہ بھارت مقررہ مدت کے اندر اپنے آپریشنل لاگ بکس اور متعلقہ ریکارڈ پیش کرے اور واضح کیا کہ عدم تعاون سندھ طاس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق کی ذمہ داریوں کو کمزور نہیں کرتا۔عدالت نے شفافیت کو لازمی قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ تمام مطلوبہ ریکارڈ ٹریبونل کے سامنے رکھا جائے۔ بھارت کی جانب سے ثالثی عدالت کے حکم پرریکارڈ فراہم نہ کیاگیا تو اس کے خلاف منفی قانونی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ ثالثی عدالت نے مزید واضح کیا کہ شواہد عدم تعاون کے باوجود عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنیں گے اور رازداری کو معاہداتی فیصلوں میں رکاوٹ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔کوئی بھی طریقہ کار یا تکنیکی تحفظ، سندھ طاس معاہدے کے حقوق اور فرائض پر فوقیت نہیں رکھتا۔ ثالثی عدالت نے عبوری تحفظ کے معاملے میں اپنی واحد اور خصوصی اتھارٹی کو بھی دوبارہ برقرار رکھا اور اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان کو معاہدے کے تحت فوری ریلیف حاصل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان یا کشیدگی کو روکا جا سکے۔ثالثی عدالت کے اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کی قانونی ساکھ مزید مضبوط ہوئی ہے جبکہ بھارت کی عدم تعمیل اور عدم تعاون عالمی سطح پر تنہا ہوتی دکھائی دیتی ہے۔عدالت کے مطابق پاکستان کی معاہدے کی پاسداری پر مبنی حکمت عملی نے سندھ طاس معاہدے کے استحکام کو یقینی بنایا ہے۔





