مودی حکومت بھارت میں مسلمانوں کا صفایا کرنے پر تلی ہوئی ہے ، رپورٹ

اسلام آباد26اگست(کے ایم ایس)
نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت بھارت سے مسلمانوں کو ختم کرنے اور ملک کو ہندو ریاست بنانے پر تلی ہوئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014 میں جب سے انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی حمایت یافتہ مودی حکومت نے اقتدار حاصل کیا ہے تب سے بھارت میں اقلیتی برادری خاص طور پر مسلمانوں کو اپنی بقا کے خطرے کا سامنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے نئی دہلی میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران کئی مسلم مخالف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ نئی دلی میں منعقدہ ہونے والی حالیہ ریلیوں کا عام نعرہ رہا اور اس دوران ایسے اشتہارات تقسیم کیے جاتے رہے جن پر ”اسلام کی تباہی ، مسلمانوں کو مار ڈالو“ جیسے مسلم دشمن نعرے درج تھے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے کی زیر قیادت احتجاج کے دوران پرتشدد مسلم مخالف نعرے لگائے گئے۔ کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہلی کے جنتر منتر میں منعقدہ ریلی میں مسلمانوں کے قتل کے نعرے لگائے گئے اور پولیس کو پتہ چلا ہے کہ اشونی اپادھیائے کے ان لوگوں کے ساتھ رابطے تھے جنہوں نے مظاہرے کے دوران مسلمانوں کو دھمکیاں دیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہندو تنظیمیں دہلی کے علاقے دوارکا میں حج ہاو¿س کی مجوزہ تعمیر کی مخالفت کر رہی ہیں۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ حج ہاوس کے خلاف احتجاج اور مسلم مخالف نفرت انگیز تحریکیں مودی کے بھارت میں انتخابی سیاست کا حصہ ہیں جہاں مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی مذہبی طور پر ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ( آر ایس ایس )کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور یہ عالمی برادری کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہونا چاہیے کہ آر ایس ایس کا نظریہ آج کے بھارت پر حکمرانی کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: