مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر میں پوسٹر چسپاں، لوگوں سے اپنی شناخت بچانے کی اپیل

pos10

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پوسٹر چسپاں کئے گئے ہیں جن میں کشمیری عوام پر زوردیاگیا ہے کہ وہ اپنی شناخت بچانے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی طرف سے 5اگست 2019کو چھینے گئے حقوق کی بحالی کے حق میں اپنی آواز بلند کرنے کے لیے سڑکوں پرنکل آئیں۔
کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ پوسٹرکل جماعتی حریت کانفرنس، کشمیر پولیٹیکل ریزسٹنس موومنٹ، جموں و کشمیر جسٹس اینڈ پیس انیشییٹو، نوجوانان حریت جموں و کشمیر، جموں و کشمیر جسٹس لیگ فورم، جموں وکشمیر ڈیموکریٹک موومنٹ، جموں و کشمیر ڈیموکریٹک یوتھ فورم، جموں و کشمیر سوشل یوتھ فورم، وارثین شہدا ء جموں و کشمیر اور جموں و کشمیر پیپلز ریزسٹنس پارٹی کی طرف سے چسپاں کیے گئے۔ ۔پوسٹروں میں کہا گیاہے کہ بی جے پی کے زیر اثر متعصب عدلیہ 5اگست 2019کے غیر قانونی اقدامات کی توثیق کر سکتی ہے اور کشمیری عوام کو بڑے پیمانے پر سڑکوں پر آنا چاہیے اور بی جے پی حکومت کی طرف سے چھینے گئے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔پوسٹروں میں لوگوں سے ہندوتوا بی جے پی/آر ایس ایس کے کشمیردشمن ایجنڈے کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 5اگست 2019کو دفعہ370کی منسوخی کشمیریوں کی شناخت پر حملہ تھا اور اس کا مقصد کشمیریوں سے ان کے حقوق چھیننا تھا۔ جموں و کشمیر کے عوام دفعہ370کی فوری بحالی چاہتے ہیں۔پوسٹروں میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ کشمیر سے متعلق دفعہ370اور 35Aکو بحال کرانے کے لیے بھارت پر دبا ئوڈالے کیونکہ 5اگست 2019کو مودی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت نے دفعہ370کو منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے جموں وکشمیرکو خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ پوسٹروںمیں کہا گیا ہے کہ بھارتی عدلیہ بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مسلمانوں سے متعلق مقدمات کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے ہندوتوا کے نظریے کو ترجیح دے رہی ہے۔ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بی جے پی حکومت کیطرف سے 5اگست 2019کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا مقصد کشمیریوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا تھا۔پوسٹروں میں 5اگست 2019کے غیر قانونی اور یکطرفہ بھارتی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے مظلوم لوگوں کے حق میں فیصلہ دینا بھارتی سپریم کورٹ کا قانونی فرض ہے، دفعہ 370اور 35Aکی بحالی ہرکشمیری کا مطالبہ ہے جو اگست 2019سے مسلسل فوج اور پولیس کے محاصرے میں ہیں۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d