سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو ایک سال مکمل، بگلیہارڈیم کے دروازے مسلسل بند

جموں:پہلگام حملے کے بعدبھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے ایک سال بعد بھیمقبوضہ جموں وکشمیرکے ضلع رامبن میں دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم کے تمام دروازے بند ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسلسل بندش سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پانی کے انتظام اور پن بجلی کی تیاری پر معاہدے کی معطلی کے اثرات واضح ہیں۔ بگلیہارپن بجلی منصوبہ اس فیصلے کے بعد سے مسلسل نگرانی میں ہے۔بھارت نے پہلگام حملے کے بعد 1960 کے سندھ طاس معاہدے کومعطل کر دیا جو پانی کی دوطرفہ تقسیم کے انتظامات میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے۔ کشیدگیکے خاتمے کے لئے بعد میں ہونے والے معاہدے کے باوجوداس معاہدے پر بھارت کا موقف بدستور برقرار ہے اور معاہدہ ابھی تک التواءکا شکار ہے۔ اس معاہدے کے تحت مشرقی دریاو¿ں راوی، ستلج اور بیاس کا پانی بھارت کو دیاگیاجن کا اوسط پانی33 ملین ایکڑ فٹ ہے جبکہ مغربی دریاو¿ں سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق تسلیم کیاگیاجن کا اوسطاًپانی 135 ملین ایکڑ فٹ ہے۔بھارت نے گھریلو استعمال اور بگلیہار جیسے رن آف دی ریور پن بجلی منصوبوں کے لیے مغربی دریاو¿ں پر محدود حقوق برقرار رکھے۔ مشرقی دریا ﺅںکے پانی کو استعمال کرنے کے لیے بھارت نے ستلج پر بھاکڑا ڈیم، بیاس پر پونگ اور پنڈوہ ڈیم اور راوی پر تھین ڈیم، بیاس ستلج لنک اور اندرا گاندھی نہر پروجیکٹ بنائے۔بگلیہار کے دروازوں کی بندش کو معاہدے کی معطلی سے منسلک وسیع تر اقدامات کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





