مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ترقی کے نام پر زمینوں پر قبضہ، این آئی ٹی کے لئے 5ہزار کنال مختص

سرینگر:بھارت غیرقانونی طورپر زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں زمینوں پر قبضے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اورتازہ ترین اقدام میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک نئے کیمپس کے قیام کے لیے ضلع پلوامہ میں تقریبا 5,000کنال زرعی اراضی کا حصول شامل ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکام کی جانب سے این آئی ٹی پلوامہ کیمپس کے لیے 4,834کنال اراضی حاصل کرنے کے منصوبے کو شدیدتنقید کا سامنا کرنا پڑا، بہت سے لوگوں نے اسے غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہ زمینوں پر قبضے کا ایک اور بہانہ ہے جسے ترقیاتی منصوبے کانام دیا گیا ہے۔اس منصوبے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، ناقدین تعلیمی ادارے کے قیام کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر زمین پر قبضے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس فیصلے سے شہریوں اور مقامی کمیونٹیزمیں علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور سیاسی منظر نامے پر طویل مدتی اثرات کے بارے میں شدید تشویش پیدا ہوئی ہے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے لیے پلوامہ میں 5000کنال اہم زرعی اراضی کیوں حاصل کی جارہی ہے؟ مقامی باشندوں نے یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ اگر تعلیم حقیقی طور پر ایک ترجیح ہے، تو حکومت کو مزید اہم مسائل جیسے کہ درج فہرست قبائل (ST)اور درج فہرست ذاتوں (SC)کے لیے غیر متوازن ریزرویشن پالیسی پر توجہ دینی چاہیے جو بہت سے لوگوں کے مطابق تعلیم کے معیار اورعلاقے کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع کو نقصان پہنچارہی ہے۔ماہرین تعلیم اور سیاسی تجزیہ کاروں نے بھی اتنی وسیع پیمانے پر زمین کے حصول کی ضرورت پر سوال اٹھایا ہے۔ ایک اسکالرطاہر فیراز نے منصوبے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ مجوزہ این آئی ٹی پلوامہ تقریبا 600 ایکڑ پر محیط ہے جس کا سائزیورپ کا سب سے بڑے شہری کیمپس یونیورسٹی کالج ڈبلن سے دوگنا اور MIT سے تین گنازیادہ ہے۔ ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے میں انجینئرنگ کالج کے لیے اتنا بڑا کیمپس کیوں؟ فیراز نے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کو بھی اجاگرکرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے پہلے ہی زرخیز زمین کا ایک بڑا حصہ استعمال کر چکے ہیں۔پلوامہ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر نے پہلے ہی پروجیکٹ کے لیے تقریبا 5000کنال اراضی کی منتقلی شروع کر دی ہے۔ تاہم اس سے سیاسی رہنمائوں اور مقامی کارکنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور پلوامہ سے رکن اسمبلی وحید پرہ نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پلوامہ این آئی ٹی کے قیام کا خیرمقدم کرتا ہے، لیکن 5000کنال اراضی پر قبضہ ناقابل قبول ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے منصفانہ معاوضے اور روزگار کی ضمانت کے بغیر اس منصوبے کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پی ڈی پی کے ایک اور رہنما التجا مفتی نے بھی زمین کے حصول پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں ترقی کے نام پر زمینوں پر قبضے کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔ این آئی ٹی پلوامہ کے لئے 5000کنال اہم زرعی اراضی پر قبضہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر تعلیم واقعی ایک ترجیح ہے تو ایسی یک طرفہ ریزرویشن پالیسی کیوں ہے؟این آئی ٹی پلوامہ کے منصوبے پر جاری بحث سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں زمینی پالیسی کے حوالے سے وسیع تر خدشات کی عکاسی ہوتی ہے اور بہت سے لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا ان اقدامات کا مقصد واقعی ترقی کو فروغ دینا ہے یا یہ علاقے میں مزید اراضی پر قبضے کا بہانہ ہے۔






