تازہ ترین

وزیر اعظم نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں ، مسئلہ کشمیر کے حل اور دیگرمعاملات پر بات کی

دنیا سے موسمیاتی انصاف کی امید لگانا غلط نہ ہوگا،جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کیلئے تنازعہ کشمیر کے حل پر زور

نیویارک23ستمبر (کے ایم ایس )
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے خطاب میں ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں، موسمیاتی تبدیلی، مسئلہ کشمیر، بھارت سے تعلقات، افغانستان کی صورتحال ، اسلامو فوبیا اور دہشتگردی کے معاملات پر بات کی۔

شبہاز شریف نے سیلاب کے حوالے سے اپنے خطاب میں کہا کہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں خواتین اور بچوں سمیت 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جو پاکستان میں ہوا ہے وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا۔انہوںنے کہاکہ میرا دل اور دماغ اس وقت بھی پاکستان میں ہے جو سیلاب سے متاثر ہے، کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ ہم کس وقت سے گزر رہے ہیں، میں یہاں سب کو بتانے آیا ہوں کہ پاکستان کن حالات سے گزر رہا ہے، 40 دن اور 40 راتوں تک ایسا سیلاب آیا جیسا دنیا نے کبھی نہیں دیکھا، 650 عورتوں نے سیلاب میں بچوں کو جنم دیا، ابتدائی اندازے کے مطابق 4 ملین ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ایسے اثرات پاکستان نے کبھی نہیں دیکھے تھے ۔ گلوبل وارمنگ نے پورے پورے خاندانوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا ہے۔ شہباز شریف نے کہاکہ پاکستان کا گلوبل وارمنگ میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے دنیا سے موسمیاتی انصاف کی امید لگانا غلط نہ ہوگا۔ انہوںنے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ان تمام رہنمائوں کا شکریہ ادا کیاجو اس مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پریشانی یہ ہے کہ جب کیمرے چلے جائیں گے تو ہم بحران سے نمٹنے کیلئے اکیلے رہ جائیں گے، جس کے ذمہ دار ہم نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیلاب کی وجہ سے 11ملین لوگ سطح غربت سے نیچے چلے گئے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ جس حد تک ممکن ہے اپنے اخراجات سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے وقف کیے ہیں اور ہمارے پاس فنڈز اور ضروریات کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔مسئلہ کشمیر کے بارے میں وزیر اعظم شہبا ز شریف نے کہاکہ جموں وکشمیر کے دیرینہ تنازعے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کئے بغیر جنوبی ایشیاء میں پائیدا رامن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے اورآبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارت نے نولاکھ سے زائد قابض فوجی تعینات کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے وہ دنیا کا واحد علاقہ ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں فوجی تعینات ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل ، پیلٹ گنز سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال ، ظلم و تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیاںجاری ہیں جبکہ بھارت مسلم اکثریتی مقبوضہ کشمیر کو ہندو اکثریتی علاقہ بنانا چاہتا ہے اور اسی مقصد کیلئے25لاکھ غیر کشمیریوںکو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کئے گئے ہیں ، کشمیریوں کی املاک اور زمینوں پر قبضہ کیا جارہاہے اور کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے نام نہاد حلقہ بندیاں کی گئی ہیں اور یہ تمام اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے علاوہ چوتھے جنیوا کنونشن کی صریحا ً خلاف ورزی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ طویل عرصے سے حل طلب ہے۔ شہبا زشریف نے کہاکہ بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے پر امن تعلقات چاہتے ہیں، خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی یکطرفہ اقدامات سے امن عمل متاثر ہوا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست کے غیر قانونی اقدام اٹھایااور بھارت کو سمجھنا ہو گا جنگ کوئی آپشن نہیں۔ شہباز شریف نے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انکے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد میں ان کی مکمل حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوںنے ایک بار پھر واضح کیاکہ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کئے بغیر جنوبی ایشیاء میںپائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوںنے کہاکہ ہم بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔ ہم ہمسایہ ہیں اور ہمیشہ ہمسایہ رہیں گے، یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ امن کے ساتھ رہیں یا جنگ لڑیں، ہم نے تین جنگیں لڑیں جس سے خطے میں غربت اور بے روزگاری بڑھی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں اپنے وسائل اسلحہ خریدنے کی بجائے آئندہ نسلوں کے بہتر مستقبل اور عوام کی تعلیم ، ترقی اور انہیں روزگار کی فراہمی پر صرف کرنی چاہیے ۔ یہ وقت ہے بھارت پیغام کو سمجھے جنگ کوئی حل نہیں ہے، صرف پر امن مذاکرات سے ہی مسائل حل ہوسکتے ہیںتاکہ دنیا میں امن قائم ہو سکے۔انہوں نے بھارت میں انتہاپسند گروپوں کی طرف سے مسلمانوں کو نسل کشی پر بھی تشویش ظاہر کی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ 20 ویں صدی کے معاملات سے توجہ ہٹا کر 21ویں صدی کے مسائل پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ جنگیں لڑنے کیلئے زمین ہی باقی نہیں بچے گی۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق رائے دہی یقینی بنانے تک مسئلہ کشمیرحل نہیں ہوگا۔وزیر اعظم نے اقوام متحدہ اور اسکے رکن ممالک کواسلاموفیا اور بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے کردار ادا کرنے پر زوردیا۔شہبازشریف نے کہا کہ اسلاموفوبیا ایک عالمی رجحان ہے اقوام متحدہ اسلاموفوبیا سے متعلق اپنائی گئی قرارداد پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ انہوںنے اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاںاورمسجد اقصیٰ کی بے حرمتی بند کرنے پر بھی زوردیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان 1963سے قبل والی سرحدوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا حل چاہتا ہے جس کا دارلحکومت القدس الشریف ہو ۔افغانستان کے بارے میں شہباز شریف نے کہاکہ پاکستان ایک پر امن افغانستان کو خواہاں ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے کیونکہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتااور س کی بنیادی وجہ غربت اور بے روزگاری ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: