بھارت،امریکہ تعلقات میں گہری دراڑیں، مودی حکومت کو بڑا معاشی دھچکا
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار میں بھارت اور امریکا کے تعلقات بدترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سردمہری نے مودی حکومت کو نہ صرف سفارتی سبکی بلکہ شدید معاشی مشکلات سے بھی دوچار کر دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بین الاقوامی جریدے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ بھارت اور امریکا کے خراب تعلقات کا براہِ راست اثر بھارت کے طاقتور ترین ارب پتیوں پر پڑا ہے، مودی حکومت کی ہندوتوا پالیسیوں اور دوغلے پن پر مبنی خارجہ حکمت عملی نے واشنگٹن کے ساتھ اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔فنانشل ٹائمز کے مطابق بھارتی ارب پتیوں نے لاکھوں ڈالر لابنگ فرموں پر خرچ کیے تاہم اس کے باوجود امریکا کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات قائم کرنے میں ناکام رہے۔رپورٹ میں نریندر مودی کے دوست گوتم اڈانی کے خلاف امریکی قانونی مقدمات کے برقرار رہنے کو اس بات کا ثبوت قرار دیا گیا ہے کہ ذاتی روابط اور لابنگ بھی امریکی قانونی ترجیحات پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔ مئی 2025 میں معرکہ حق میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارت اب امریکا کا ایسا اتحادی نہیں رہا جس پر خطے کے معاملات سنبھالنے کے لیے مکمل بھروسہ کیا جا سکے، ٹیرف تنازع کے تناظر میں مودی اور ٹرمپ کے درمیان رابطہ نہ ہونے کے برابر رہا جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔فنانشل ٹائمز کے مطابق حالات کو بھارت کے لیے مزید تلخ بناتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ قربت میں اضافہ کیا ہے جس سے خطے میں بھارت کی سفارتی پوزیشن مزید کمزور ہوئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھارت کو امریکا سے اختلاف کی صورت میں سخت معاشی اور قانونی دبائو کا سامنا کرنا پڑے گا، روسی تیل کی درآمد پر امریکی ناراضی اور بھارتی مصنوعات پر 50فیصد ٹیرف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکا اب بھارت کی نام نہاد اسٹریٹجک خودمختاری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ماہرین کے مطابق مکیش امبانی جیسے بڑے کاروباری گروپس نے روسی تیل کی ریفائننگ کے ذریعے اربوں ڈالر منافع کمایا جو امریکا کے لیے تشویش کا باعث بنا اگرچہ امریکا بھارت کو چین کے مقابل ایک اہم فریق سمجھتا رہا ہے تاہم بھارت کا حالیہ رویہ واشنگٹن کے لیے قابلِ تشویش قرار دیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ بھارت پاکستان کشیدگی اور خطے میں بڑھتے ہوئے تصادم کے خدشات نے بھی بھارت سے متعلق امریکی شکوک و شبہات کو مزید گہرا کر دیا ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں بھارت کی معیشت اور خارجہ پالیسی پر نمایاں طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔








