جسٹس کاٹجو کی کمبھ میلے پر 9ہزارکروڑ روپے خرچ کرنے پربھارتی حکومت پرکڑی تنقید
نئی دہلی:” بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اتر پردیش کے الہ آباد(پریاگ راج)شہر میں جاری کمبھ میلے پر 9ہزارکروڑ روپے خرچ کرنے پر بھارتی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس کاٹجو نے ایک مضمون میں کہاکہ ٹیکس دہندگان کی بھاری رقم کو عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر کے لیے بہتر طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔جسٹس کاٹجو نے اس عقیدت کوکہ گنگا اور یمنا ندیوں میں نہانے سے گناہ دھل جاتے ہیں،توہم پرستی اورغیر سائنسی قراردیتے ہوئے سوال اٹھایاکہ حکومت فنڈز دے کر ایسے عمل کو کیوں فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ لوگوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور توہمات پر یقین رکھنے کا حق ہے، تاہم مذہبی تقریبات کے لیے حکومت کی حمایت بھارتی آئین کے آرٹیکل 51A(h)کے منافی ہے جس میں سائنسی مزاج کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔سابق جج نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ایک حکمت عملی کے تحت خاص طورپر اترپردیش میں آئندہ انتخابات سے قبل ہندو ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے کمبھ میلے کو سیاسی بنانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ جسٹس کاٹجو نے استدلال کیا کہ بھارت کے سیکولر آئین کے مطابق اس طرح کی تقریبات حکومتی فنڈ کے بجائے شرکا ء کے خرچ پر منعقدہونی چاہئے۔






