مودی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے: حریت کانفرنس

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیرقیادت نئی دہلی کی مسلط کردہ انتظامیہ کی طرف سے کشمیری رہنمائوں اور کارکنوں کی مسلسل گرفتاریوں اور طویل نظر بندیوں کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں گرفتاریوں کو کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی کو دبانے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019سے مقبوضہ علاقے میں بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، ہزاروں کشمیری بغیر منصفانہ ٹرائل کے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA)اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام جیسے کالے قوانین کے تحت جیلوں میں بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام گرفتار نوجوانوں کو جھوٹے بیانات دینے پر مجبور کر رہے ہیں جس کا مقصد پرامن مزاحمتی تحریک کو بدنام کرنا ہے۔ایڈوکیٹ منہاس نے کہاکہ آزادی پسند رہنمائوں اور کارکنوں کو من گھڑت الزامات کی بنیاد پر بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ قیدیوں کو جیلوں میں غیر انسانی سلوک اور تشددسامنا ہے اورانہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کے جابرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے پر عزم ہیں۔ترجمان نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے۔
دریں اثناء جموں و کشمیر ینگ مینز لیگ نے ایک بیان میں سرینگر اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے دیگر علاقوں میں بھارتی فوج اور پولیس کے چھاپوں اور تلاشیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ینگ مینز لیگ کے ترجمان نے کہاکہ اس طرح کے اقدامات سے حق خودارادیت کے حصول کے لئے جس کی ضمانت اقوام متحدہ نے دے رکھی ہے، کشمیری عوام کے عزم کو توڑا نہیں جاسکتا ۔







