” تحفظ کی ذمہ داری “کشمیرکے لئے استعمال کیاجانے والا سب سے قابل عمل راستہ ہے: قانونی ماہرین

اسلام آباد 30نومبر (کے ایم ایس) قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ” تحفظ کی ذمہ داری “کشمیرکے حوالے سے غیر آئینی ہتھکنڈوں کو روکنے کے لیے بھارت کے خلاف استعمال کیاجانے والا سب سے قابل عمل راستہ ہے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق لیگل فورم فار کشمیر (LFK) کے زیر اہتمام اور کل جماعتی حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کے اشتراک سے ”مقبوضہ جموںوکشمیر میں انسانوں کا قتل عام“کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایل ایف کے کے چیئرمین اور سابق بین الاقوامی جج جسٹس علی نواز چوہان نے کہا کہ کشمیربین الاقوامی برادری کی طرف سے تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقہ ہے اور موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تحفظ کی ذمہ داری کشمیر کے لئے بھارت کے خلاف عبوری اقدامات کے طورپر استعمال کیا جانے والابہترین آپشن ہیں۔انہوں نے کہاکہ طاقتور ریاستیں پابندیوں کے لیے قانون کا استعمال کرتی ہیں جبکہ کمزورریاستیں بین الاقوامی قانونی راستوں جیسے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست پاکستان اور کشمیری عوام کا مفاد ایک ہی یعنی کشمیر کو بھارت کے قبضے سے آزاد کراناہے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیگل فورم فار کشمیرایڈووکیٹ ناصر قادری نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان محاذ آرائی سے براہ راست جنگ کا امکان ہے۔ اس لیے قانونی جنگ کو بروئے کار لانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے میںلوگوں کی آواز کو دبانے کے لیے انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں پر پابندی لگا دی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ بھارت کو جنگی جرائم پربین الاقوامی سطح پرشرمندہ کرنے اور بے نقاب کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کا بہترین وقت ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے رہنما سیدفیض نقشبندی نے قابض بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا ۔کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز(KIIR) کے سربراہ الطاف وانی نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کا رکن ہونے کے ناطے ہم ہمیشہ اس اقدام کی حمایت میں سب سے آگے رہیںگے جو کشمیر کاز کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔ماہرین اور پینلسٹ نے تقریب کے دوران اس بات پر اتفاق کیاکہ اگرچہ عالمی عدالت انصاف مسئلہ کشمیر کو مستقل طور پر حل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تاہم قانونی اقدامات سے قتل وغارت کو روک کر کشمیریوں کی زندگیاں آسان بنائی جاسکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: