بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے: رپورٹ
مسلمانوں کو سورج اور دریاوں کی پوجا کرنی چاہیے، آرایس ایس رہنما کی ہرزہ سرائی
اسلام آباد: بھارت میں ہر سال آج 18دسمبر کو” اقلیتوں کے حقوق“ کے دن کے طورپر منایا جاتا ہے لیکن ملک میں اقلیتوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔ اقلیتوں خاص طو ر پر مسلمانوں کی اس وقت جو حالت زار ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فسطائی نریندر مودی کی قیادت میںبھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بھارت میں اقلیتوں پر آر ایس ایس کے نظریے کو مسلط کر رہی ہے ۔ بی جے پی حکومت کی امتیازی پالیسیوں نے بھارتی اقلیتوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے بیانیے نے خطرناک رخ اختیار کرلیاہے اور اقلیتوں کو تشددکا نشانہ بنانا اور ہراساں کرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اقلیتوں کی حالت زار کو اکثرانسانی حقوق کے عالمی اداروں کی طرف سے جاری کردہ رپورٹوںمیں اجاگر کیا جاتا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ دنیا بھارتی اقلیتوں کے بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔
دریں اثنا ہندو توا جماعت آر ایس ایس کے سینئر رہنما دتاتریہ ہوسابلے نے ریاست اترپردیش میں ایک تقریب کے دوران مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سورج اور دریاﺅں کی پوجا کرنی چاہیے۔تقریب میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی کے کئی ارکان پارلیمنٹ شریک تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ہوسابلے کا یہ بیان مسلمانوں کے خلاف آر ایس ایس-بی جے پی کے عناد اور تعصب کا واضح عکا س ہے۔انہوں نے کہا ان کا یہ بیان بھارت کے سیکولر نظریے کے صریح منافی ہے ۔ آرایس ایس رہنما کے بیان کی حزب اختلاف کی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے بھی کڑی تنقید کی ہے۔
2011 کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں اقلیتی آبادی 19 اعشاریہ 30 فیصد ہے۔ جب کہ سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کی آبادی 14 اعشاریہ 2 فیصد ہے۔بھارت کے آئین میں دفعہ 25 سے 28 تک تمام شہریوں کو مذہبی آزادی تفویض کی گئی ہے۔ دفعہ 25 تمام شہریوں کو اپنی پسند کے مذہب پر چلنے یا مذہب بدلنے کی گارنٹی دیتی ہے۔دستور میں بھارت کو ایک سیکولر ملک قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا۔لیکن ماہرین سوال کرتے ہیں کہ کیا واقعی اقلیتوں کو وہ مذہبی حقوق حاصل ہیں جو آئین نے انھیں دیے ہیں۔






