جموں میں این آئی اے عدالت نے نظربند حریت پسندکی درخواست ضمانت مسترد کر دی

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے جموں میںغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یو اے پی اے) کے تحت درج ایک مقدمے میں نظر بند حریت پسندتفضل حسین پریمو کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تفضل حسین اکتوبر 2020 سے نظربند ہیں۔سماعت کے دوران ان کے وکیل نے دلیل دی کہ ان کے قبضے سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا اور ان کی طویل نظربندی کے باوجود استغاثہ کے تقریباً 150 گواہوں میں سے صرف 23 سے جرح کی گئی۔این آئی اے نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تفضل ایک فعال اوور گراو¿نڈ ورکر تھا۔ عدالت نے کہاکہ یواے پی اے،تعزیرات ہند اور آرمز ایکٹ کے تحت الزامات پہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں۔عدالت نے خدشے کا اظہار کیا کہ اگر ملزم کو رہاکیاجائے تو وہ گواہوں پراثر اندازہو سکتا ہے یا ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے درخواست ضمانت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔








