نیشنل کانفرنس کی قیادت اقتدار سنبھالتے ہی اپنے وعدوں سے مکر گئی ہے: آغا سید ہادی
سرینگر18: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں معروف عالم دین آغا سید ہادی نے کہاہے کہ نام نہاد انتخابات سے قبل لوگوں کو سبزباغ دکھانے والی نیشنل کانفرنس کی قیادت اقتدار سنبھالتے ہی اپنے وعدوں سے مکر گئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آغا ہادی نے سرینگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیریوں کو ان کے حقوق دلانے کا وعدہ کرنے والی نیشنل کانفرنس کی قیادت اب بھارتی حکمرانوں کی ترجمان بن گئی ہے اورریاست کے حقوق کی بات کرنے کے بجائے مختلف بہانوں سے راہ فراراختیارکررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں نے اپنے حقوق اورشناخت کی واپسی کے لئے جن لوگوں کو منڈیٹ دیا ہے، وہ اب کہہ رہے ہیںہم بھارتی حکومت سے لڑ نہیں سکتے۔ انہوں نے کہاکہ اگریہ لوگ کشمیریوں کے حقوق کے لئے لڑ نہیں سکتے تو انہیں اقتدار پر قابض رہنے کا کوئی حق نہیں ، انہیں اقتدارچھوڑ کر گھر جانا چاہیے تاکہ کشمیری اپنی نئی قیادت کا چنائو کر سکیں۔آغا ہادی نے کہاکہ یہ روز اول سے واضح تھا کہ کشمیریوں کو اپنے حقوق اور شناخت کے لئے لڑنا ہوگا۔ جن لوگوں نے آپ کے حقوق چھین لئے ہیں وہ ان حقوق کو آسانی سے واپس نہیں کریں گے بلکہ اس کے لئے لڑنا ہوگا۔یہ حقوق آپ کو بھیک میں نہیں ملیں گے بلکہ چھین کر لینے ہونگے۔ ایک بچہ بھی سمجھتا ہے کہ 2014سے اورخاص طورپر2019سے یہ واضح پالیسی ہے کہ کشمیریوں کے حقوق سلب کرنے ہیں اور ہم نے اگر اپنے حقوق لینے ہیں تووہ لڑکر لینے ہونگے ۔آپ آگے آئیں اوراپنی ریاست کے حقوق کے لئے لڑیں ، عوام آپ کے پیچھے ہیں ۔لیکن آپ آج بے شرمی سے کہہ رہے ہیں کیاہم نے سینٹرسے لڑائی کرنی ہے؟اگرلڑائی نہیں کرنی ہے توپھر کیاکرنا ہے؟جن لوگوں نے گزشتہ 30سال سے قتل وغارت دیکھا ہے اوربے شمار قربانیاں دی ہیں ، انہوں نے اپنی شناخت کی واپسی کے لئے آپ پر بھروسہ کیاہے ، وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے کسی بہادر کو ووٹ دیے اوروہ ہمارے لئے لڑے گا ۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ لوگ اپنے حقوق اورشناخت کے لئے لڑنے کے بجائے آج لیلےٰ مجنون کے قصے سناتے ہیں اورمختلف بہانوں سے اپنے وعدوں سے راہ فرار اختیارکرتے ہیں۔






