معرکہ حق میں کامیابی، پاکستان کی سفارتی کامیابیاں، عسکری اور سفارتی حکمت عملی کا حسین امتزاج
اسلام آباد:
معرکہ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان نے اپنی عسکری قوت اور سفارتی حکمتِ عملی کے امتزاج سے دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار، امن پسند اور علاقائی استحکام لانے والا ملک ہے جو اپنی سلامتی اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق معرکہ حق میں کامیابی نے پاکستان کو نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی میدان میں بھی ایک باوقار اور ذمہ دار ریاست کے طور پر منوایا ہے ،دشمن کی بلااشتعال جارحیت کے خلاف جرات مندانہ اورموثر جواب نے پاکستان کو ایک ناقابل تسخیر قوت بنا یا ، اس کامیابی کے بعد حکومت و عسکری قیادت نے مل کر عالمی سطح پر پاکستان کے بیانیے کو اجاگر کیا۔اہم ممالک کے دوروں کے ذریعے دفاعی، معاشی اور تزویراتی شراکت داریوں کو نئی جہت دی گئی۔ امریکہ نے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو ایک امن پسند اور ذمہ دار ملک قرار دیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے امریکہ کے دو اہم دوروں کے دوران وائٹ ہائوس میں ان کے اعزاز میں پرتکلف ضیافت دی گئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی فوجی تعاون مضبوط بنانے میں ان کے کردار کی تعریف بھی کی ۔ حکومتی سطح پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کئی اہم غیر ملکی دورے کئے۔ 25مئی کو وزیراعظم نے استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی اور علاقائی سلامتی و انسداد دہشت گردی پر تبادلہ خیال کیا۔پاکستان اور ایران کے درمیان وسیع البنیاد تعاون کی بنیاد پر وزیراعظم پاکستان نے 26 مئی کو ایران اور ایرانی صدر نے 3 اگست کو پاکستان کا دورہ کیا ۔ 27 اور 28 مئی کو وزیراعظم نے آذربائیجان کا دورہ کیا جہاں توانائی، بنیادی ڈھانچے اور دفاعی تعاون پر معاہدے ہوئے۔ 29اور 30مئی کو وزیراعظم تاجکستان میں گلیشیئر کانفرنس میں شریک ہوئے اور تجارت، توانائی اور موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو ہوئی ۔ 5سے 12جون تک وزیراعظم نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جس میں معاشی تعلقات اور سرمایہ کاری زیر غور رہے ۔ 30اور 31جولائی کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک تاریخی تجارتی معاہدہ طے پایا ۔امریکہ کے ساتھ معاہدے میں تیل کے ذخائر کی ترقی، ٹیرف میں کمی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں تعاون شامل تھا۔ 14اگست کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے ساتھ اس تعاون کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا۔وزیراعظم شہباز شریف اس وقت چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شریک ہیں۔ تیانجن میں وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدر سے بھی ملاقات ہوئی جبکہ دیگر اہم ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سفارتی سطح پرموثر کردار ادا کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی سطح پر پاکستان کا موقف اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 30مئی سے 9جون تک بلاول بھٹو نے امریکہ میں اعلی سطحی ٰوفد کی قیادت کی۔بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا اور پاکستان کے موقف کو مضبوط انداز میں پیش کیا ۔انہوں نے 10جون کو لندن میں آل پارٹی پارلیمانی گروپ اور برسلز میں یورپی یونین کے نمائندوں سے ملاقات کی۔پاکستان کی بہترین حکومتی اور عسکری ڈپلومیسی کے باعث بھارت کی پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں ۔ پاکستان نے اپنی عسکری قوت اور سفارتی حکمتِ عملی کے امتزاج سے دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار، امن پسند اور علاقائی استحکام لانے والا ملک ہے، پاکستان اپنی سلامتی اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ، حکومت اور عسکری قیادت کی مربوط حکمتِ عملی نے پاکستان کی عالمی پوزیشن کو مضبوط بنایا اور دنیا کو پاکستان کی قربانیوں، بصیرت اور وژن کو تسلیم کرنے پر راغب کیا۔








