سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرہ خاندان 18سال سے انصاف سے محروم
اسلام آباد: بھارتی حکومت سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے میں ہندوتوا تنظیموں کے ملوث ہونے کے واضح شواہد کی موجودگی کے باوجود سانحے کے متاثرہ مسلم خاندانوں کو 18 سال گزنے کے باوجود انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔متاثرین میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان سے ہے
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 18 فروری 2007 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے کئی بم دھماکوں میں 68 افراد جاںبحق ہو گئے تھے جن میں زیادہ تر پاکستانی تھے۔ بم ہندوتوا دہشت گردتنظیموںبی جے پی ، آر ایس ایس ، بجرنگ دل اور وشوہندو پریشد کے دہشت گردوں نے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی ملی بھگت سے پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے لاہور آنے والی ٹرین میں نصب کیے تھے۔18سال کاطویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھارتی حکومت متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ دھماکوں میں ملوث افراد کی بریت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارتی حکومت میں ہندو انتہا پسندوں کومکمل استثنیٰ حاصل ہے اور اس حوالے سے عدالتی فیصلہ ہندو دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بھارت کی ریاستی پالیسی کا عکاس ہے۔بھارتی عدالت کی جانب سے چار ہندو انتہا پسندوں کواس سفاکانہ واقعے میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد کے باوجود بری کرنا افسوسناک ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا تھااوراسکی بڑے پیمان پرمذمت کی گئی ۔







