مسئلہ کشمیر کا حل جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لئے ناگزیر ہے:چیئرمین سینیٹ

اقوام متحدہ : سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں پاکستان کے پارلیمانی وفد نے تنازعہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا میںپائیدار امن و استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انہوں نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں سالانہ بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی سماعت 2026 کے موقع پر عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیربک کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ ایک طرف جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہوا اور دوسری طرف بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر روک کر مزید عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ غیر قانونی اقدام معاہدے کی دفعات اور روایتی بین الاقوامی قانون کے قائم کردہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے24کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں اور معاش کو خطرہ لاحق ہے اوراس سے ایک خطرناک مثال قائم ہوئی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی کمی تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں کے سخت احترام کا تقاضا کرتی ہے۔یوسف رضاگیلانی نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے، القاعدہ اور آئی ایس آئی ایل-کے جیسے گروپوں کا حوالہ دیتے ہوئے افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی اور سرحد پار دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط بین الاقوامی تعاون پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام بین الاقوامی امن و سلامتی، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے اقوام متحدہ کے مشن کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی بحرانوں کے دوران کثیر الجہتی نظام کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جن میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی مسلسل خلاف ورزیاں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دیرینہ قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونا شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سربراہ مس بیربک نے پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر تعزیت کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ملاقات کے موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر محمد عبدالقادر اور سینیٹر سید فیصل علی سبزواری بھی موجود تھے۔






