مقبوضہ کشمیر: سیاستدانوں کی طرف سے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے کشمیر اسمبلی سے خطاب پر کڑی تنقید

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سیاسی لیڈروں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے کشمیراسمبلی سے خطاب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ اپنے خطاب دفعہ 370کی بحالی کے بارے میں بات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بھارتی آئین کی اس دفعہ کے تحت جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی جسے مودی حکومت نے اگست2019میں غیر قانونی طورپر منسوخ کر دیاتھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق منوج سنہا نے جموں میں نو منتخب اسمبلی کے پہلے بجٹ اجلاس کے آغاز کے موقع پر خطاب کیا۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سرینگر میں میڈیاسے گفتگو میں لیفٹیننٹ گورنر کے کشمیر اسمبلی سے خطاب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ منوج سنہا کی تقریر میں کوئی نئی چیز نہیں تھی ۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کو امید تھی کہ وہ انکے حقوق یاانہیں درپیش مسائل کے بارے میں کوئی بات کریں گے تاہم انہوںنے اپنے خطاب میں کشمیریوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔محبوبہ نے کہا کہ جب بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیرکی ریاستی حیثیت کی بحالی کا وعدہ کیا تھا، توکشمیریوں کواس بارے میں خدشات لا حق ہو گئے تھے۔انہوں نے کہاکہ اگر منوج سنہا نے اپنے خطاب میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے کشمیریوں کے مطالبات کو تسلیم کیاتاہم وہ اس کی بحالی کیلئے کسی مدت کا تعین کرنے میں ناکام رہے ۔ پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے بھی لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے کشمیر اسمبلی سے خطاب پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ نیشنل کانفرنس کی نام نہاد حکومت جموںوکشمیر میں بی جے پی کے ایجنڈے کوآگے بڑھارہی ہے ۔انہوں نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ کشمیریوں نے انتخابات میں نیشنل کانفرنس پر اعتماد کا اظہار کیا تاہم وہ اب بی جے پی کے سامنے سرنگوں ہو چکی ہے اور اس نے دفعہ 370کی بحالی کے کشمیریوں کے مطالبے پر چپ سادھ رکھی ہے ۔سجاد لون نے کہا کہ اگر پارٹی اقتدار میں ہوتی تو ایل جی کا خطاب بی جے پی کی تقریر ہو سکتا تھا۔انہوںنے کہاکہ منوج سنہا کے خطاب میں دفعہ 370اور35A کی بحالی کا کوئی ذکر نہیں تھا جو کشمیریوں کا مقبول ترین مطالبہ ہے۔ انہوں نے نام نہاد وزیراعلیٰ عمرعبداللہ پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اقتدار میں آنے سے قبل ان کی توجہ دفعہ370کی بحالی پر مرکوز تھی لیکن برسراقتدار آنے کے بعد انہوں نے اس مطالبے کو ترک کردیاہے۔






