پنجاب میں تقسیم کو ہوادینے پر مودی حکومت کو شدید تنقید کاسامنا

نئی دلی:بھارت میں بی جے پی کی حکومت کوسیاسی فائدے کے لیے مذہبی اور سماجی تقسیم کو ہوا دیکر پنجاب کی سیکولر تااقدار کو کمزور کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین نے کہا ہے کہ بھارت میں 2014میں مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے پنجاب کو ہندوتوا پر مبنی سیاست کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جس سے ریاست کے تاریخی سیکولر اقدار اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو متاثر کیا جا رہا ہے۔بی جے پی پنجاب میں اپنے سیاسی قدم جمانے کے لیے فرقہ وارانہ جذبات کا استحصال کررہی ہے جس کی وجہ سے ریاست کوبڑھتی ہوئی تقسیم کا سامنا ہے۔ ہندوتوا نظریہ کی مسلط کردہ پالیسیوں کی وجہ سے پنجاب کے مختلف مذہبی اور سماجی گروپوں میں عدم اعتماد اور ناراضگی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کا ہندوتواایجنڈا پنجاب کے ثقافتی اور مذہبی معاملات میں مداخلت کرکے اس کی الگ شناخت کو کمزور کرنے پر مبنی ہے ۔ ہندی زبان کو مسلط ، پنجابی زبان کونظر انداز کرنے اور سکھوں کے مذہبی اداروں میں مداخلت کی بی جے پی کی کوششوں کو پنجاب کے سماجی و سیاسی منظر نامے کو بدلنے کی گہری سازش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔نفرت انگیز تقاریر، مذہبی عدم برداشت اور اقلیتوں پر حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات سے ظاہر ہوتاہے کہ پنجاب میں سیکولرازم اقدار مودی حکومت کے حملے کی زد میں ہیں ۔








