بھارت

مسیحی رہنماﺅں کا آسٹریلوی پادری ، انکے کم سن بیٹوں کے قتل میں قید ہندو توا کارکن کی رہائی کے امکان پر اظہار تشویش

نئی دلی : بھارت میں مسیحی رہنماں نے ایک آسٹریلوی مشنری گراہم سٹینز اور ان کے دو کم سن بیٹوں کو زندہ جلانے کے جرم میں قیدہندوتوا کارکن دارا سنگھ کی قبل از وقت رہائی کے امکان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسیحی رہنماں نے خبردار کیا ہے کہ سنگھ کی رہائی سے انتہا پسند عناصر کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے اور بھارتی نظامِ انصاف پر اقلیتوں کا اعتماد مزید کمزور پڑ سکتا ہے۔ ہندوتوا تنظیم ”بجرنگ دل “سے وابستہ دارا سنگھ اوڈیسہ میں 1999 میں گراہم سٹینز اور ان کے بیٹوں10 سالہ فلپ اور 6 سالہ ٹموتھیکے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ 22 جنوری 1999 کو سٹینز اور ان کے بیٹے اڈیسہ کے ضلع کیونجر میں ایک گاڑی کے اندر سو رہے تھے کہ سنگھ کی قیادت میں ایک ہندو توا ہجوم نے گاڑی پر حملہ کر کے اسے آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں تینوں افراد زندہ جل کر ہلاک ہو گئے۔
ایک ٹرائل کورٹ نے 2003 میں دارا سنگھ کو سزائے موت سنائی تھی۔ دو سال بعد اڈیسہ ہائی کورٹ نے اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جبکہ 2011 میں بھارتی سپریم کورٹ نے عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا۔سپریم کورٹ اب اڈیسہ حکومت پر زور دے رہی ہے کہ وہ سنگھ کی سزا میں تخفیف کی درخواست پر فیصلہ کرے۔ 8 ستمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران، جسٹس منوج مشرا اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اگر کوئی فیصلہ نہ کیا گیا تو ریاستی حکام کو طلب کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی مزید سماعت کے لیے 17 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے ۔
چرچ رہنماں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے سنگھ کی قبل از وقت رہائی کے امکان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اڈیسہ میںبی جے پی کی حکومت ہے لہذا سنگھ کی رہائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ۔بھوبنیشور آرچ ڈاﺅسیس کے چانسلر فادر دیباکر پریچھا نے خبردار کیا ہے کہ سنگھ کی قبل از وقت رہائی سے عدالتی نظام پر عوامی اعتماد کمزور پڑے گا، انتہا پسند قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھے گا۔ اوڈیسہ لائرز فورم کے فادر اجے سنگھ نے بتایا کہ سنگھ کیتھولک پادری ارول ڈاس اور کپڑوں کے مسلمان تاجر شیخ رحمان کے قتل کے سلسلے میں بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button