مقبوضہ جموں و کشمیر

وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں براہ راست مداخلت ہے: ایم ایم یو

سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم متحدہ مجلس علماء(ایم ایم یو) نے بھارتی پارلیمنٹ سے وقف ترمیمی بل کی منظوری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق علمائے کرام، آئمہ حضرات اور مختلف مذہبی تنظیموں کے سب سے بڑے نمائندہ فورم” ایم ایم یو “نے ایک بیان میں کہا”وقف نے تاریخی طور پر مسلم کمیونٹی کی سماجی اور مذہبی ضروریات کو پورا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے ، ترمیم شدہ بل مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں براہ راست مداخلت ہے، بل کا مقصد اس مسلم ادارے کی خود مختاری کو کم کرنا اور اسے بی جے پی کے کنٹرول میں رکھنا ہے۔
ایم ایم یو نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے پر7 اپریلبروز پیر ایک اہم اجلاس کا انعقاد کرے گی۔بیان میں کہا گیا کہ ایم ایم یو اس حوالے سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) اوربھارت بھر کی دیگر ممتاز مسلم تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ معاملے کے حوالے سے ایک اجتماعی اور متفقہ لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button