بھارت

شمالی اور جنوبی ریاستوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم بھارت کیلئے بطور وفاق ایک سنگین خطرہ

نئی دلی: بھارت میں مودی کے دور حکومت میں جاری علیحدگی پسند تحریکوں کے علاوہ سماجی، سیاسی اور اقتصادی عدم مساوات کی وجہ سے شمالی اور جنوبی ریاستوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم ملک کے لیے بطور وفاق ایک سنگین خطرہ ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت کی جنوبی ریاستیں مودی کی بھارتی حکومت پر مالیاتی پالیسیوں، حلقہ بندی کے خطرات اور ثقافتی یلغار کے ذریعے انہیں منظم طور پر پسماندہ رکھنے کا الزام عائد کر رہی ہیں۔ مودی حکومت کی ہندوتوا پالیسیوں کے نتیجے میں جنوبی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ اگر صرف آبادی کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کی گئیں تو ان کی وفاق میں پارلیمانی نمائندگی کم ہو جائے گی۔بھارت کی جی ڈی پی میں غیر متناسب حصہ ہونے کے باوجود، تمل ناڈو اور کیرالہ جیسی ریاستیں شمالی ریاستوں کی پارلیمانی نشستیں کم ہو سکتی ہیں۔ سائوتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی نے طویل عرصے سے اپنے ہندوتوا ایجنڈے کے ذریعے اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے اور ترقی پسند نظریات کو دبانے کی کوشش کی ہے جو کہ جنوبی ریاستوں کے سیاسی منظرنامے پر حاوی ہیں۔ہندو بالادستی کاہندوتوانظریے کی جڑیں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں ہیں۔ یہ نظریہ جنوبی ریاستوں میں رائج سیکولر اور تکثیری اقدار سے بالکل بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ بھارت کی جنوبی ریاستوں پرہندوتواکی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو مسلط کیا گیا ہے۔سائوتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق یہ نظریاتی جنگ نہ صرف سیاسی استحکام بلکہ بھارت کی شناخت کو تبدیل کرنے کی بھی ایک کوشش کرتا ہے۔جنوبی ہندوستان80فیصدخواندگی کی شرح کے ساتھ شمال کی 60فیصد شرح خواندگی سے کہیں آگے ہے جہاں لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع دستیاب ہیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق جنوبی ریاستوں کا بھارت کے ٹیکس محاصل میں 30فیصدسے زائد حصہ ہے ۔جنوبی ریاستوں کو لاحق ایک اور خوف بی جے پی کے ہندوتوا دبائو کے تحت مقامی زبانوں اور شناختوں کی بڑھتی ہوئی پسماندگی بھی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button