انسانی حقوق

مقبوضہ جموں وکشمیر: مزید 4کشمیری مسلمانوں کی املاک ضبط ، 2نوکریوںسے برطرف

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے کشمیری مسلمانوں کو انکی املاک اور سرکاری نوکریوںسے محروم کرنے کا مذموم سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید چار لوگوں کی جائیدادیں ضبط کر لی ہیںجبکہ دو کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے حکم پر ضلع گاندربل میں تین افراد کی 9 کنال اور 7 مرلہ زرعی اراضی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے “ کے تحت ضبط کی ہے جس کی مالیت 3 کروڑ47لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔جن افراد کی جائیدادیں ضبط کی گئی ہیں انکے نام فردوس احمد وانی ، محمد رمضان بٹ اور محمد ایوب گنائی ہیں۔فردوس احمد وانی ٹریسا صفاپورہ، محمد رمضان بٹہ پورہ صفاپورہ جبکہ محمد ایوب گنائی پہلو پورہ صفاپورہ کے رہائشی ہیں۔صفاپورہ ضلع گاندر بل کا علاقہ ہے۔
پولیس نے ضلع پونچھ کے علاقے بگیال درہ کے رہائشی محمد بشیر کی 6کنال پر مشتمل اراضی ضبط کر لی ہے ۔
دریں اثنا لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے دو کشمیری ملازمین بشارت احمد میر اور اشتیاق احمد ملک کو نوکریوں سے برطرف کر دیا ہے۔ بشارت میر مقامی پولیس میںاسٹنٹ وائر لیس آپریٹر تھے جبکہ اشتیاق احمد محکمہ تعمیرات عامہ میںبطور سینئر اسٹنٹ کام کرتے تھے۔انہیں آزادی پسند سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں برطرف کیا گیا۔ بشارت کا تعلق سری نگر جبکہ اشتیاق کا ضلع اسلام آباد سے ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button