او آئی سی کا بھارت میں اسلاموفوبیا اور مقبوضہ کشمیر میں مسلم کش اقدامات پر سخت ردعمل
جدہ:
اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن نے بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں اسلاموفوبیا، مسلم مخالف تشدد اور انتقامی کارروائیوں میں اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق او آئی سی کا مذمتی بیان بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں حالیہ پہلگام واقعے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے بعد مقبوضہ علاقے میں کشمیری مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بھارت میں ہندو انتہا پسند عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم، فرقہ وارانہ تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف مسلمانوں سمیت اقلیتوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ عالمی انسانی حقوق کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔او آئی سی کے انسانی حقوق کمیشن نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرے ، 20کروڑ سے زائد بھارتی مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور بے گناہ افراد کو نشانہ بنانے کے اس سلسلے کو فوری روکے۔کمیشن نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیں، آزادانہ تحقیقات کے لیے اقدامات کریں اور مسلمانوں کی بنیادی آزادیوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔کمیشن نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لیے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی غیر جانبدارفیکٹ فائنڈنگ مشن کی تشکیل ناگزیر ہے۔






