خصوصی رپورٹ

میدان جنگ میںعبرتناک شکست: بھارت نے دہشت گرد کارروئیاں تیز کر دیں

اسلام آباد:  بھارت نے پاکستان کے ساتھ حالیہ لڑائی میں اپنی عبرتناک شکست اور آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس نے اپنی دہشت گرد پراکسی بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ذریعے ہائبرڈ جنگ میں تیزی لائی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بی ایل اے کے دہشت گردوں نے گزشتہ روز خضدار میں ایک اسکول بس کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں چار بچوں سمیت متعددافراد شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ یہ گھناو¿نا حملہ بھارت کی حمایت یافتہ پراکسی دہشت گردی کا واضح عکاس ہے۔ بھارت کو حالیہ لڑائی کے دوران جو شکست فاش ہوئی ہے وہ اس سے انتہائی بوکھلاہٹ کا شکار ہے ، براہ راست کارروائی میں اسے منہ کی کھانی پڑی ہے لہذا اب اس نے پراکسی کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی اپنی مذموم کوششیں تیز کر دی ہیں۔
گزشتہ روز خضدار میں بچوں پر ہونےو الا حملہ یہاں اس طرح کی پہلی کارروائی نہیں ہے ۔2015کے بعد بی ایل اے نے 18سے زائد حملے کیے ۔ پکڑے گئے بی ایل اے کے کارکن ”را“ کے ساتھ اپنے گٹھ جوڑ کا اعراف کر چکے ہیں ۔
یک سینئر سیکورٹی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ بھارت براہ راست پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں ناکام رہا، اب وہ بی ایل اے کے دہشت گردوں کے پیچھے چھپ کر وہ کام کر رہا ہے جو اس کی فوج نہیں کر سکی ۔ بھارتی میڈیا بھی بی ایل اے کے گن گا رہا ہے اور معصوم بچوں پر حملے کی مذمت کے بجائے کارروائی کو جائز قرار دے رہا ہے۔
یہ بات اب ڈھکی چھپی ہرگز نہیں کہ بھارت بی ایل اے کی بھر پور مدد کر رہا ہے ۔پاکستان کی خوشحالی او ترقی بھارت کو ہضم نہیں ہورہی ، پاک چین اقتصاری راہ داری ا سے آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے اور وہ اسے ثبو تاژ کرنے کے در پے ہے۔
بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا راگ الاپ رہا ہے تاہم حالات اور واقعات نے ثابت کیا ہے کہ وہ خود ایک بڑا دہشت گرد ہے جس نے نہ صرف نہتے کشمیریوں کا ریاستی دہشت گردی کے ذریعے جینا حرام کرر کھا ہے بلکہ وہ اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو بھی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔
پاکستان کی افواج بھارتی سرپرستی میںہونے والی دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کیلئے پرعزم ہیں ، خضدار حملے کے معصوم شہداءکا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ حملے کے تمام ذمہ دار ضروراپنے انجام کو پہنچیں گے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button