پاکستان

بھارتی پارلیمنٹ میں” اکھنڈ بھارت“ کا نقشہ مذموم مقاصد کی نشاندہی کرتا ہے، رضوان سعید شیخ

واشنگٹن:امریکا میں تعینات پاکستاتی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ بھارتی قیادت کے بیانات کشیدگی کو ہوا دینے کا سبب بن رہے ہیں، بھارتی قیادت کے بیانات ہندوتوا کی دہشت گردانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پارلیمنٹ میں اکھنڈ بھارت کا نقشہ تسلط پسندانہ سوچ اور مذموم مقاصد کی نشاندہی کرتا ہے، بھارتی قیادت کا داخلی ضرورتوں کے لیے پاکستان کارڈ کھیلنا اور قومیت کو ہوا دینا انتہائی خطرناک روش ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق پاکستانی سفیر ایک پاکستانی ٹیلی ویژن کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نفرت کا بیانیہ انتخابی خساروں کی پردہ پوشی کے لیے پروان چڑھایا جارہا ہے، بلوچستان میں معصوم بچوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے دہشت گرد اور ان کے نظریاتی اور مالیاتی سرپرست انسانیت کے نام پر ایک بدنما دھبہ ہیں اس بار امریکا اور دیگر ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تصفیہ طلب امور پر بات چیت چاہتے ہیں۔ رضوان سعید شیخ نے کہا کہ جنگ بندی کےوقت امریکا کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام مسائل پر بات ہوگی۔ پاک بھارت جنگ بندی کے حوالے سے امریکی کردار واضح ہے، بھارتی قیادت کے بیانات ہندوتوا کی دہشت گردانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین جنگ بندی میں امریکا نے نمایاں کردار ادا کیا، صدر ٹرمپ کی جانب سے بذات خود جنگ بندی کا اعلان اس حوالے سے امریکی کردار کو واضح کرتا ہے ۔مسئلہ کشمیر کے حل میں پیش رفت کے حوالے سے امریکی صدر کی کوششوں کی قدر کرتے ہیں، امید ہے ان کوششوں کو جاری رکھا جائے گا اور معاملے کو طے شدہ طریقہ کار کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیر ی عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلے کا پائیدار اور مستقل حل کا خواہاں ہے، سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کا رویہ لاقانونیت کے ایک تسلسل کا مظہر ہے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ طور پر معاہدے کو منقطع کرنے یا معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کسی طور پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے غیر قانونی اور غیر انسانی عمل کی حمایت نہیں کرے گی، 25 کروڑ کی آبادی کا پانی روکنا اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button