بھارت

وعدہ خلافی، جبر اور استحصال، سکھوں کا بھارتی ریاست پر عدم اعتماد کی وجوہات

اسلام آباد:پنجابی صوبہ کہاں ہے؟یہ سوال صرف ایک زبان یا زمین کا نہیں، بلکہ سکھ برادری کے ساتھ کیے گئے ایک تاریخی وعدے، اس کی خلاف ورزی اور مسلسل ریاستی جبر کی داستان ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تقسیمِ برصغیر کے بعد، نہرو تاراسنگھ مفاہمت کا مطابق سکھ برادری نے اپنی لسانی، ثقافتی اور مذہبی شناخت کے تحفظ کے لیے پنجابی صوبہ کے قیام کا مطالبہ کیاتھا۔ یہ مطالبہ نہ صرف جائز تھا بلکہ جمہوری اصولوں کے عین مطابق بھی تھا۔ مگر بھارت نے اس مطالبے کو علیحدگی پسندی، غداری اور خطرے کے طورپر پیش کیا۔ وزیراعظم جواہر لال نہرو نے 1950 کی دہائی میں اکالی رہنما ماسٹر تارا سنگھ کو یقین دلایا تھا کہ ریاستوں کی لسانی بنیاد وںپر تشکیل کے دوران پنجابی زبان کو بھی تسلیم کیا جائے گا۔ مگر جب 1956کا اسٹیٹس ری آرگنائزیشن ایکٹ منظور ہوا، تو پنجابی صوبے کو نظرانداز کر دیا گیا۔ تامل، تیلگو، بنگالیوں کیلئے علیحدہ ریاستیں قائم کی گئیں تاہم سکھوں کو دھوکہ دیا گیا۔ پنجابی صوبہ کے مطالبے کو مذہبی انتہا پسندی کا رنگ دے کر بدنام کیا گیا، حالانکہ یہ سکھوں کا ایک پرامن، لسانی اور جمہوری مطالبہ تھا۔ مورارجی دیسائی جیسے بھارتی رہنمائوں نے سکھوں پر مذہبی ریاست قائم کرنے کا الزام لگایا، جو نہ صرف بے بنیاد تھا بلکہ بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا بھی تھا۔ 1951اور 1961کی مردم شماری میں ریاستی مداخلت سے پنجابیوں کے ساتھ کھلی زیادتی کی گئی۔ ہندو ئوں کو سرکاری دبائو کے تحت ہندی کو مادری زبان لکھوانے پر مجبور کیا گیا تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ پنجابی زبان کو اکثریت حاصل نہیں۔ ماسٹر تارا سنگھ اور سنت فتح سنگھ نے پنجابی صوبہ کے قیام کے لیے تاریخی، پرامن تحریک کی قیادت کی۔ لاکھوں سکھ رضاکاروں نے قربانیاں دیں۔ صرف 1960کی تحریک میں 57ہزارسے زائد سکھوں کو گرفتار کیا گیا۔ بھارتی حکومت نے مذاکرات کے بجائے ریاستی طاقت اور جبر کو استعمال کیا اور بڑے پیمانے پرگرفتاریاں کیں۔ 1966میں اندرا گاندھی کے دور میںپنجابی صوبہ تو قائم ہوا، مگر اس کے ساتھ ایسی شرائط عائد کی گئیں جنہوں نے سکھوں کے اعتماد کو مکمل طور پر چکناچور کر دیا۔ ہریانہ کو پنجاب سے الگ کر دیا گیا۔ کئی پنجابی بولنے والے علاقے ہماچل پردیش کو دے دیے گئے۔ چندی گڑھ کو پنجاب کا دارالحکومت بنانے کے بجائے یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا۔ پنجاب کے دریا اور آبی وسائل پر کنٹرول مرکزی حکومت کے حوالے کر کے ،سکھوں کو اپنے ہی وسائل سے محروم کر دیا گیا۔ بظاہر پنجابی صوبہ کا وعدہ پورا کیا گیا، مگر حقیقت میں یہ ایک کمزور، منقسم اور بے اختیار صوبہ تھا۔ سکھوں کے جذبات، مطالبے اور جدوجہد کے ساتھ کھلواڑ کیاگیا،جس کے نتیجے میں حکومت اور سکھوں کے درمیان بداعتمادی کی بنیاد پڑی۔اس کے بعد سکھوں کو باورہوگیا کہ بھارتی ریاست کے وعدے صرف وقتی اورسیاسی حربے ہیں۔بھارت میں سکھوں کو کبھی برابر کا شہری نہیں سمجھا گیا۔بھارت میں ان کی شناخت، زبان، ثقافت اور مذہب کو منظم طور پر کمزور کیا جا رہا ہے اور یہی احساسِ محرومی اور ریاستی دھوکہ بعد میں خالصتان تحریک کی بنیاد بنا کیونکہ جب ایک قوم کے ساتھ بار بار دھوکہ کیا جائے اور اس کی امن کی کوششوں کو دبایاجائے اور اس کی شناخت کو مٹانے کی کوشش کی جائے، تو اعتماد کی جگہ علیحدگی کا مطالبہ جنم لیا ہے۔سکھ برادری آج بھی سوال پوچھتی ہے کہ اگر نہرو نے انہیں دھوکہ نہ دیا ہوتا تو تاریخ کا رخ مختلف ہوتا اور کشمیر میں کشمیریوں کو اور پنجاب میں سکھوں کو انکا حق نہ دے کر کیا بھارت پرامن جمہوری ملک کہلانے کا حقدار ہے؟

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button