جی ایم سی راجوری میں گائے کی تصویر شیئر اور پسند کرنے پرتین طلباء پر پابندی

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیںگورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری کی انتظامیہ نے عیدالاضحی کے موقع پر گائے کی تصویر شیئر اور لائیک کرنے پر بی ایس سی نرسنگ کے تین طالب علموں کو کلاسوں میں جانے سے روک دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس سلسلے میں میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسرڈاکٹر بھاٹیہ کی طرف سے جاری کئے گئے نوٹس میں کہاگیا ہے کہ طالب علموں اجمل شفیع، عمر فاروق شاہ اور عابد احمد راتھر کو انکوائری کا نتیجہ آنے تک کلاسوں میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جی ایم سی راجوری کی اسٹوڈنٹ ڈسپلنری کمیٹی کو ایک تفصیلی انکوائری کرنے اور دو دن کے اندر سفارشات کے ساتھ اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ کارروائی 9جون 2025کو کوآرڈینیٹر بی ایس سی پیرامیڈیکل اینڈ نرسنگ کے ایک خط کے بعد کی گئی ہے جنہوں نے پرنسپل کو مخاطب کرتے ہوئے تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیاتھا۔ کوآرڈینیٹر نے بتایا کہ اجمل شفیع نے عید کے موقع پر تیسرے سمسٹر کے طالب علموں کے آفیشل واٹس ایپ گروپ میں گائے کی تصویر پوسٹ کی تھی جسے بعد ازاں دیگر دو طلباء نے پسند کیا۔خط میں کہا گیا ہے کہ مواد قابل اعتراض پایا گیا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ نے معاملے کو اٹھایا اورکالج کے حکام سے تادیبی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔







