مودی حکومت اختلاف رائے کو دبانے ، آئینی حقوق سلب کرنے کیلئے یو اے پی اے کا استعمال کر رہی ہے
نئی دلی:
بھارت میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت منظم طریقے سے اختلاف رائے کو دبا نے اور ناقدین کو ڈرانے اور آئینی آزادیوں کو ختم کرنے کے لیے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کانگریس پارٹی کے میڈیا اینڈ پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ مودی حکومت اختلاف رائے کو دبانے اور انصاف میں تاخیر کے لیے کالے قانون کا بے دریغ استعمال کررہی ہے۔ 2014 سے 2022 کے درمیان اس کالے قانون کے تحت 8ہزار719کیسزدرج کئے گئے جن میں سے بیشتر مقدمات صحافیوں اورانسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف درج کئے گئے تاکہ انہیں نشانہ بنایاجاسکے ۔انہوں نے یو اے پی اے کو مودی حکومت کا ایک ہتھیار قراردیا جسے جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں پر قدغن کیلئے استعمال کیاجارہا ہے ۔پون کھیڑا نے اس کالے قانون کے تحت آنند تیلٹمبڈے، نودیپ کور اور مہیش راوت کو بھیما کوریگائوں کیس میں گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ تیلٹمبڈے کوتین سال کی نظربندی کے بعد رہاکیا گیا ہے اس نے دوران حراست تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزامات لگائے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ 2020میں متنازعہ قانون شہریت کے خلاف احتجاج پر طلبا کارکنوں عمر خالد اور شرجیل امام کے علاوہ صحافی فہد شاہ،عرفان مہراج، پربیر پورکایستھا، اور امیت چکرورتی کو یو اے پی اے کے تحت قید کیاگیاہے۔پون کھیڑا نے زور دیاکہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے پرامن اختلاف رائے کا تحفظ ضروری ہے۔یو اے پی اے جیسے قوانین کا خطرناک استعمال بھارت کے آئین کے تحت حاصل آزادیوں کیلئے براہ راست خطرہ ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ تہاڑ جیل سے سٹوڈنٹ لیڈرعمرخالد کی تحریریں سیاسی قیدیوں کو درپیش تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں۔







